جکارتہ: انڈونیشیا کے بحیرہ جاوا میں مسافر بردار جہاز Virgo Transport 8 کے حادثے کے بعد کم از کم چھ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ 130 مسافر اور عملے کے ارکان تاحال لاپتا ہیں۔ انڈونیشی حکام نے بحری جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کی مدد سے وسیع تلاش اور امدادی کارروائی شروع کر رکھی ہے۔
اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق جہاز مشرقی جاوا کے شہر سورابایا سے جنوبی کلیمنتان کے بنجرماسین جا رہا تھا۔ جہاز پر مجموعی طور پر 243 افراد سوار تھے، جن میں 30 عملے کے ارکان بھی شامل تھے۔ سفر کے دوران خراب موسم کے باعث جہاز سے رابطہ منقطع ہوا، جس کے بعد ریسکیو اداروں نے ہنگامی آپریشن شروع کیا۔
انڈونیشیا کی سرچ اینڈ ریسکیو ایجنسی باسرناس کے حکام کے مطابق دستیاب تازہ گنتی میں 107 افراد کو زندہ تلاش کیا گیا ہے اور چھ لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ باقی 130 افراد کا سراغ لگانے کے لیے سمندری اور فضائی وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات میں محفوظ نکالے گئے افراد کی تعداد سے متعلق مختلف اعداد سامنے آئے تھے، تاہم مجموعی مسافر فہرست کے ساتھ مطابقت رکھنے والی تازہ سرکاری گنتی 107 محفوظ افراد کی ہے۔
ریسکیو ٹیموں کو خراب موسم، بلند لہروں اور وسیع سمندری علاقے کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔ حکام نے قریبی بندرگاہوں، ماہی گیر کشتیوں اور دیگر جہازوں کو بھی تلاش میں مدد کے لیے متحرک کیا ہے، جبکہ متاثرہ خاندانوں کے لیے معلوماتی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ لاپتا افراد کی حتمی تعداد ریسکیو آپریشن اور مسافر فہرست کی تصدیق کے ساتھ تبدیل ہو سکتی ہے۔
انڈونیشیا ہزاروں جزیروں پر مشتمل ملک ہے جہاں بین الجزائری سفر کے لیے فیری اور مسافر جہاز روزمرہ نقل و حمل کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ وسیع ساحلی حدود، بدلتے موسم اور بعض راستوں پر حفاظتی و نگرانی کے مسائل کے باعث سمندری حادثات وقفے وقفے سے پیش آتے رہتے ہیں۔ حکام عموماً ایسے حادثات کے بعد جہاز کی فنی حالت، مسافر گنجائش، موسمی انتباہات اور آپریٹر کی حفاظتی ذمہ داریوں کی تحقیقات کرتے ہیں۔
Virgo Transport 8 کے حادثے کی فوری وجہ ابھی باضابطہ تحقیق سے طے نہیں ہوئی۔ خراب موسم اور رابطہ منقطع ہونے کی اطلاعات موجود ہیں، لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ جہاز کیوں ڈوبا یا آیا کسی فنی خرابی یا انسانی غلطی نے بھی کردار ادا کیا۔ متعلقہ ادارے تلاش مکمل ہونے کے بعد جہاز کے آپریشن اور حادثے کے حالات کی مزید جانچ کریں گے۔
حکام کی فوری ترجیح لاپتا مسافروں اور عملے کو تلاش کرنا ہے۔ ریسکیو ٹیموں نے کہا ہے کہ دستیاب موسم اور روشنی کی صورت حال کے مطابق آپریشن کو جاری رکھا جائے گا اور خاندانوں کو تصدیق شدہ معلومات فراہم کی جائیں گی۔

