دی ہیگ: مستقل ثالثی عدالت (PCA) کے تحت قائم ثالثی عدالت نے پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960 کے سندھ طاس معاہدے کی قانونی حیثیت سے متعلق فیصلہ اور رتلے پن بجلی منصوبے کے بارے میں عبوری اقدامات کا حکم جاری کر دیا ہے۔ PCA کے 31 اگست 2026 کے سرکاری اعلامیے کے مطابق یہ کارروائی پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف سندھ طاس معاہدے کے تحت شروع کی گئی ثالثی کا حصہ ہے۔ عدالت نے معاہدے کی حیثیت پر اپنا ایوارڈ اور رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ سے متعلق عبوری اقدامات پر الگ حکم جاری کیا۔

ڈان کی 31 اگست کی رپورٹ، جس میں رائٹرز کی خبر شامل ہے، کے مطابق عدالت نے قرار دیا کہ سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر نافذ العمل ہے اور بھارت کی جانب سے اسے ختم یا معطل کرنے کے لیے کوئی ایسی بنیاد موجود نہیں جسے عدالت نے قابل قبول سمجھا ہو۔ رپورٹ کے مطابق عدالت نے رتلے منصوبے کے سلسلے میں کام معطل کرنے سے متعلق عبوری حکم بھی دیا۔ یہ ایک عدالتی فیصلہ اور عبوری حکم ہے؛ اسے دونوں ملکوں کے درمیان تمام آبی تنازعات کا حتمی تصفیہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

سندھ طاس معاہدہ 1960 سے پاکستان اور بھارت کے درمیان دریاؤں کے پانی کے استعمال کا بنیادی قانونی فریم ورک ہے۔ اس کے تحت مشرقی دریاؤں کے استعمال کے حقوق بنیادی طور پر بھارت جبکہ دریائے سندھ، جہلم اور چناب سمیت مغربی دریاؤں کے پانی کے حقوق بنیادی طور پر پاکستان کے لیے متعین کیے گئے ہیں، تاہم معاہدہ بھارت کو مخصوص شرائط کے تحت بعض استعمال، بشمول پن بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں، کی اجازت دیتا ہے۔ انہی منصوبوں کے ڈیزائن اور معاہدے کی تشریح سے متعلق اختلافات نے ثالثی کارروائی کو جنم دیا۔

PCA کے مقدمہ نمبر 2023-01 میں پاکستان نے معاہدے کی تشریح اور اطلاق سے متعلق سوالات ثالثی عدالت کے سامنے رکھے ہیں۔ عدالت اس سے پہلے اپنے دائرۂ اختیار اور معاہدے کی عمومی تشریح سمیت مختلف مراحل میں فیصلے جاری کر چکی ہے۔ 11 مئی 2026 کے PCA اعلامیے کے مطابق عدالت نے عبوری اقدامات اور معاہدے کی حیثیت سے متعلق مرحلے کی سماعت مکمل کی تھی؛ 31 اگست کا فیصلہ اسی مرحلے سے متعلق ہے۔

بھارت نے اپریل 2025 میں سندھ طاس معاہدے کو التوا میں رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ پاکستان نے اس اقدام کی مخالفت کی اور مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے میں یک طرفہ طور پر اسے معطل کرنے کی گنجائش نہیں۔ موجودہ ثالثی فیصلے میں عدالت کا نتیجہ قانونی کارروائی کا باقاعدہ عدالتی نتیجہ ہے، جبکہ فریقین کے سیاسی یا سفارتی مؤقف الگ حیثیت رکھتے ہیں۔ اس رپورٹ میں کسی فریق کے دعوے کو عدالت کے ثابت شدہ نتیجے کے طور پر پیش نہیں کیا گیا ہے۔

رتلے منصوبہ دریائے چناب کے نظام سے متعلق بھارتی پن بجلی منصوبوں میں شامل ہے اور اس کے بعض ڈیزائن پہلو پاکستان اور بھارت کے درمیان طویل عرصے سے اختلاف کا موضوع رہے ہیں۔ 31 اگست کے PCA اعلامیے نے واضح طور پر بتایا کہ عدالت نے رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ کے بارے میں عبوری اقدامات کا حکم جاری کیا ہے۔ مکمل قانونی اثرات اور آئندہ کارروائی کا انحصار عدالت کے تفصیلی فیصلوں، متعلقہ احکامات اور فریقین کے بعد کے اقدامات پر ہوگا۔