لاہور: پنجاب اسمبلی نے پیر کو انسدادِ دہشت گردی (پنجاب ترمیمی) بل 2026 منظور کرلیا ہے۔ ڈان کی 31 اگست کو رات 11 بج کر 20 منٹ پر شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق بل پر حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان سخت بحث ہوئی، اپوزیشن نے اس کی قانونی اور آئینی جہتوں پر اعتراض کیا اور بعد میں ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔ یہ خبر اسمبلی سے بل کی منظوری کی تصدیق کرتی ہے؛ گورنر کی منظوری، گزٹ اشاعت یا عملی نفاذ کے کسی بعد کے مرحلے کو اس رپورٹ میں مکمل شدہ نتیجہ نہیں کہا جا رہا۔
رپورٹ کے مطابق پنجاب اسمبلی کے اسپیکر ملک محمد احمد خان نے رولنگ دی کہ بل کو ایجنڈے پر لانا قانونی طور پر ممکن ہے۔ انہوں نے آئین کے آرٹیکل 142 کے تحت فوجداری قانون سے متعلق دائرۂ اختیار کا حوالہ دیا اور کہا کہ دہشت گردی کے مقدمات میں گواہوں اور مقدمے سے وابستہ افراد کے تحفظ کے لیے غیر معمولی انتظامات کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔ اسپیکر نے اپوزیشن سے بل روکنے کے بجائے قابلِ عمل ترامیم پیش کرنے کا کہا۔ یہ اسپیکر کا ایوان میں بیان اور قانونی مؤقف ہے، کسی عدالتی فیصلے کا متبادل نہیں۔
اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی نے بل کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے شہریوں کے خلاف استعمال ہونے کا خدشہ ظاہر کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اس قانون کے ذریعے سیاسی مخالفین، خصوصاً تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کو ہدف بنا سکتی ہے۔ ان الزامات کو اپوزیشن کا مؤقف سمجھا جائے؛ دستیاب رپورٹ کسی مخصوص مقدمے میں بل کے ایسے استعمال یا کسی عدالت کی جانب سے اس الزام کی توثیق بیان نہیں کرتی۔ اپوزیشن رکن احمر رشید بھٹی نے منصفانہ اور شفاف ٹرائل سے متعلق آئینی حق کے تناظر میں ججوں، وکلا اور گواہوں کی شناخت چھپانے کی تجاویز پر سوال اٹھائے۔
بل میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 میں نئی دفعہ 21 اے اے اے شامل کرنے کی تجویز ہے۔ ڈان کے مطابق اس کے ذریعے ایسے مقدمات کے لیے خصوصی سکیورٹی کیس کا طریقۂ کار بنایا جائے گا جن میں شریک افراد کو غیر معمولی تحفظ درکار سمجھا جائے۔ کم از کم بی ایس 20 کا ایک نامزد افسر، جس کی اپنی شناخت بھی خفیہ رکھی جاسکے گی، کسی مقدمے یا مقدمات کی ایک قسم کو خصوصی سکیورٹی کیس قرار دینے کا اختیار رکھ سکے گا۔ اس افسر کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس متعلقہ مقدمہ انسدادِ دہشت گردی عدالت کے کسی جج کو تفویض کرسکیں گے۔
رپورٹ میں بیان کردہ دفعات کے مطابق جج، سرکاری وکیل، صفائی کے وکیل، پولیس افسر، گواہ اور کارروائی سے وابستہ دوسرے افراد کی شناخت ظاہر نہ کرنے کا انتظام کیا جاسکے گا۔ عدالتی احکامات پر جج کے نام کے بجائے سرکاری عنوان درج کرنے اور گواہوں کو کوڈ کے ذریعے شناخت دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔ کارروائی محفوظ مقام پر یا ویڈیو لنک کے ذریعے، بشمول جیل سے، ہوسکے گی اور حکومت ضرورت کے مطابق مزید حفاظتی اقدامات اختیار کرسکے گی۔ یہ تمام نکات منظور شدہ بل کے رپورٹ شدہ متن کا خلاصہ ہیں؛ ان کی عملی شکل قواعد، نوٹیفکیشن اور عدالتی تشریح سے مزید واضح ہوسکتی ہے۔
ڈان کی رپورٹ نے اپیل، عدالتی آزادی اور مقدمے کے ریکارڈ تک رسائی سے متعلق ممکنہ قانونی سوالات بھی بیان کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگر جج کی شناخت خفیہ ہو تو ملزم کے لیے ٹریبونل کی تشکیل، جج کی علیحدگی یا آزادی سے متعلق اعتراض اٹھانے میں عملی دشواری پیدا ہوسکتی ہے۔ اسی طرح مقدمے کا ریکارڈ سربمہر رکھنے، پراسیکیوٹر کے انتخاب میں نامزد اتھارٹی کے کردار اور ایک مقدمے کے بجائے مقدمات کی پوری قسم پر خصوصی نظام لاگو کرنے کی تجاویز پر بھی اعتراضات سامنے آئے۔ ان خدشات کو حتمی آئینی نتیجہ نہیں بلکہ رپورٹ شدہ قانونی اور سیاسی اعتراضات کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
بحث کے بعد اپوزیشن ارکان نے نعرے لگائے اور ایوان سے باہر چلے گئے۔ واک آؤٹ کے دوران کورم کی نشاندہی کی گئی، تاہم حکومتی بنچوں نے مطلوبہ تعداد پوری کرلی۔ اپوزیشن کی غیر موجودگی میں اس کی مجوزہ ترامیم مسترد ہوئیں اور ایوان نے بل منظور کرلیا۔ اگلا قابلِ تصدیق مرحلہ بل کی حتمی توثیق، سرکاری گزٹ، نفاذ کی تاریخ، قواعد اور کسی ممکنہ عدالتی جانچ سے متعلق باضابطہ دستاویزات ہوں گی۔ اردو ہیڈ لائنز ان مراحل کو معتبر نئی اطلاع سامنے آنے پر اسی واقعے کی تازہ پیش رفت کے طور پر رپورٹ کرے گا۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




