کراچی: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ نئے انتظامی یونٹس بنانا نہ غیر آئینی ہے اور نہ غداری کے مترادف۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے یہ بات اورنگی ٹاؤن کے آفتاب گراؤنڈ میں ایم کیو ایم پاکستان کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ یہ ایک سیاسی رہنما کا بیان اور جماعتی مطالبہ ہے؛ کسی نئے صوبے یا انتظامی یونٹ کی تشکیل کا منظور شدہ حکومتی فیصلہ نہیں۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نئے صوبے بنانے کے لیے اسمبلی میں دو تہائی اکثریت درکار ہوگی اور آئین میں مزید ترمیم کی گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے آئین کے آرٹیکل 239 کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ صوبوں کی تشکیل کا آئینی راستہ موجود ہے۔ آئینی طریقۂ کار کی حتمی تعبیر پارلیمانی کارروائی، متعلقہ صوبائی اسمبلی کی منظوری اور ضرورت پڑنے پر عدالتی تشریح سے طے ہوگی؛ جلسے کی تقریر بذاتِ خود آئینی تبدیلی نافذ نہیں کرتی۔

رپورٹ کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما نے مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے، مردم شماری اور وسائل کی تقسیم کو اپنی تقریر کا مرکزی موضوع بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کراچی کی آبادی کو درست طور پر شمار نہیں کیا گیا، شہر کے لوگوں کو پانی، تعلیم، صحت، ملازمتوں اور شہری خدمات میں مشکلات کا سامنا ہے، اور صوبائی حکومت نے کراچی کے حصے کے وسائل مناسب طور پر فراہم نہیں کیے۔ یہ تمام نکات مصطفیٰ کمال کے سیاسی دعوے اور الزامات ہیں؛ دستیاب رپورٹ ان کے لیے الگ سرکاری اعداد و شمار یا کسی عدالتی نتیجے کی توثیق پیش نہیں کرتی۔

ڈان نے 10 اگست کو ایم کیو ایم پاکستان کے اسی جاری مطالبے پر الگ رپورٹ میں بتایا تھا کہ جماعت ملک کی 32 ڈویژنز کو بااختیار انتظامی یونٹس میں تبدیل کرنے کی حمایت کررہی ہے۔ اس رپورٹ میں بھی مصطفیٰ کمال نے اختیارات اور وسائل کو مقامی سطح تک منتقل کرنے، سندھ کی سات ڈویژنز اور دوسرے صوبوں میں مزید انتظامی یونٹس بنانے کا مؤقف پیش کیا تھا۔ یہ سابقہ رپورٹ تازہ جلسے کے ہر جملے کی آزاد تصدیق نہیں، مگر یہ دکھاتی ہے کہ انتظامی یونٹس کا مطالبہ جماعت کی جاری عوامی مہم کا حصہ ہے۔

مصطفیٰ کمال نے پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت پر بدترین طرزِ حکمرانی کا الزام لگایا اور کہا کہ کراچی کے لوگ اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر آسکتے ہیں۔ انہوں نے صوبے کے لیے 22 ہزار ارب روپے کی مختص رقوم کا حوالہ دے کر ان کے استعمال پر سوال اٹھایا۔ رقم، مدت اور اخراجات سے متعلق یہ بیان بھی تقریر میں کیا گیا دعویٰ ہے، کسی تازہ آڈٹ یا سرکاری حسابات کا نتیجہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان آبادی اور رقبے کے اعتبار سے دنیا کے کئی ممالک سے بڑے ہیں، اس لیے انتظامی تنظیمِ نو کو ممنوع موضوع نہیں سمجھنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ 27 ستمبر کو سہراب گوٹھ میں پختون برادری کا اجتماع ہوگا اور کراچی، حیدرآباد اور میرپورخاص کے بعد لاڑکانہ میں بھی جلسے کیے جائیں گے۔ یہ جماعتی آئندہ پروگرام کا اعلان ہے اور اس کا انعقاد بعد میں قابلِ تصدیق ہوگا۔

نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کی بحث میں آئینی اکثریت، صوبائی اسمبلی کی منظوری، حدود، وسائل، نمائندگی اور مقامی حکومتوں کے اختیارات جیسے معاملات بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ موجودہ خبر جلسے میں پیش کیے گئے مؤقف تک محدود ہے۔ اردو ہیڈ لائنز کسی باضابطہ مسودے، قرارداد، پارلیمانی پیش رفت یا سرکاری فیصلے کو اسی سیاسی بحث کی الگ تازہ پیش رفت کے طور پر رپورٹ کرے گا۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک