لاس اینجلس کاؤنٹی سپیریئر کورٹ کی جیوری نے 25 مارچ کو ایک سول مقدمے میں میٹا کے انسٹاگرام اور گوگل کے یوٹیوب کو غفلت کا ذمہ دار قرار دیا۔ جیوری کی اکثریت نے کہا کہ پلیٹ فارمز کے ڈیزائن یا چلانے کا طریقہ 20 سالہ مدعیہ، جسے عدالتی ریکارڈ میں کے جی ایم کہا گیا، کے نقصان کا ایک اہم سبب تھا۔

کے جی ایم نے عدالت کو بتایا کہ اس نے چھ برس کی عمر میں یوٹیوب اور نو برس کی عمر میں انسٹاگرام استعمال کرنا شروع کیا اور بچپن میں مسلسل استعمال نے اس کی ذہنی صحت کی مشکلات بڑھائیں۔ یہ مدعیہ کا مؤقف تھا؛ کمپنیوں نے اس تعلق سے اختلاف کیا اور گھریلو حالات، پہلے سے موجود مسائل اور ہر سروس کے الگ استعمال کو اہم قرار دیا۔

جیوری نے پہلے 30 لاکھ ڈالر تلافیاتی ہرجانہ مقرر کیا اور ذمہ داری کا 70 فیصد میٹا اور 30 فیصد یوٹیوب پر رکھا۔ بعد میں مزید 30 لاکھ ڈالر تعزیری ہرجانے کی سفارش کی گئی، جس میں میٹا کا حصہ 21 لاکھ اور یوٹیوب کا نو لاکھ ڈالر تھا۔ مجموعی رقم 60 لاکھ ڈالر بنتی ہے، مگر عدالتی فیصلوں اور بعد کی قانونی کارروائیوں سے رقم یا ذمہ داری متاثر ہو سکتی ہے۔

میٹا نے کہا کہ وہ فیصلے سے متفق نہیں اور قانونی راستوں پر غور کرے گا۔ گوگل نے بھی الزامات مسترد کیے اور یوٹیوب کو روایتی سوشل نیٹ ورک کے بجائے ویڈیو اسٹریمنگ پلیٹ فارم قرار دینے کا مؤقف دہرایا۔ دونوں کے دفاعی دلائل کو بیان کرنا ضروری ہے کیونکہ جیوری کا فیصلہ حتمی اپیلٹ حکم نہیں۔

ٹک ٹاک اور اسنیپ مقدمہ شروع ہونے سے پہلے مدعیہ کے ساتھ تصفیہ کر چکے تھے، اس لیے جیوری نے ان کے خلاف ذمہ داری طے نہیں کی۔ یہ کیس کیلیفورنیا میں یکجا کیے گئے سوشل میڈیا مقدمات کا پہلا بیل ویدر، یعنی آزمائشی مقدمہ، تھا؛ اس کا نتیجہ دوسرے فریقوں کو حکمتِ عملی یا تصفیے کا اشارہ دے سکتا ہے مگر ہر آئندہ مقدمہ خودکار طور پر اسی نتیجے کا پابند نہیں۔

عدالتی کیلنڈر میں اسی اجتماعی کارروائی کے مزید مقدمات اور سماعتیں درج ہیں۔ اگلے مراحل میں جج کی جانب سے ہرجانے اور بعد از مقدمہ درخواستوں پر احکامات، ممکنہ اپیلیں اور دوسرے مدعیوں کے الگ شواہد شامل ہوں گے۔ اس فیصلے کو فوجداری جرم، تمام سوشل میڈیا استعمال پر عمومی طبی حکم یا پوری صنعت کے خلاف قطعی فیصلہ سمجھنا درست نہیں۔