ایران نے جنوبی صوبہ فارس میں قدرتی گیس کے ایک بڑے نئے ذخیرے کی دریافت کا اعلان کیا ہے۔ ایکسپریس نیوز کی 23 اگست کی رپورٹ نے ایرانی میڈیا اور وزیر پیٹرولیم محسن پاک نژاد کے بیان کے حوالے سے کہا کہ تخت اے نامی فیلڈ میں گیس کے ساتھ گیس کنڈینسیٹ بھی موجود ہے۔ یہ ایرانی سرکاری اعلان ہے؛ ذخیرے کی آزاد تکنیکی جانچ یا تجارتی پیداوار کی تاریخ رپورٹ میں فراہم نہیں کی گئی۔
رپورٹ کے آغاز میں ذخیرے کا ایک تخمینہ تقریباً 5.7 ٹریلین مکعب فٹ بتایا گیا، جبکہ وزیر پیٹرولیم سے منسوب تفصیل میں مجموعی گیس 7.5 ٹریلین مکعب فٹ سے زیادہ بیان کی گئی۔ انہوں نے قابل بازیافت مقدار کو جنوبی پارس گیس فیلڈ کے پہلے مرحلے کی تقریباً پندرہ سالہ پیداوار کے مساوی قرار دیا۔ مختلف اعداد ممکنہ طور پر مجموعی، قابل بازیافت یا مختلف تخمینی زمروں سے متعلق ہو سکتے ہیں، مگر دستیاب رپورٹ میں مکمل تکنیکی جدول نہیں؛ اس لیے ان میں خود سے تطبیق نہیں کی گئی۔
محسن پاک نژاد کے مطابق فیلڈ میں نسبتاً کم سلفر مرکبات والی میٹھی قدرتی گیس موجود ہے، جس سے ترقی اور آپریشن کے اخراجات کم رہنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ گیس کنڈینسیٹ ایک قیمتی ہائیڈرو کاربن مائع ہے جو قدرتی گیس کے ساتھ نکل سکتا ہے۔ تاہم کم لاگت اور مالی قدر کے دعوے کی حتمی جانچ کنوؤں کی پیداوار، بنیادی ڈھانچے، سرمایہ کاری اور منڈی کی قیمتوں سے ہوگی۔
ایرانی وزیر نے گیس اور کنڈینسیٹ کی مجموعی مالیت کو سیکڑوں ارب ڈالر قرار دیا اور کہا کہ حکومت فیلڈ کی ترقی جلد آگے بڑھانا چاہتی ہے۔ یہ مستقبل کی مالی قدر کا سرکاری تخمینہ ہے، موجودہ آمدن یا منظور شدہ حتمی سرمایہ کاری نہیں۔ پیداوار شروع ہونے سے پہلے ذخیرے کی حد بندی، ترقیاتی منصوبہ، پائپ لائن رابطہ اور سرمایہ کاری کے فیصلے درکار ہوں گے۔
ایران مقامی صنعت اور توانائی کے بڑھتے استعمال کے لیے گیس پیداوار بڑھانا چاہتا ہے، جبکہ امریکی پابندیوں کے بعد توانائی منصوبوں میں ملکی سرمایہ اور ماہرین پر زیادہ انحصار کیا گیا ہے۔ نئی دریافت توانائی فراہمی میں اضافہ کر سکتی ہے، مگر حقیقی اثر پیداوار کے آغاز اور قابل بازیافت ذخیرے کی مزید تصدیق کے بعد معلوم ہوگا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




