دوحہ/تہران: ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے جاری تازہ سفارتی کوششوں میں پیش کیے گئے خیالات کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق ایک ایرانی عہدیدار نے بدھ کو کہا کہ تہران کو ثالثوں کی جانب سے جو نکات موصول ہوئے ہیں، وہ موجودہ شکل میں ایران کے لیے قابل قبول بنیاد فراہم نہیں کرتے۔ دوسری جانب معاملے سے واقف ایک ذریعے نے بتایا کہ زیر بحث تجویز میں فریقین کے درمیان اعتماد بحال کرنے کے لیے متعدد اقدامات شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق قطر ثالثی کی نئی کوشش میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ سفارتی رابطوں کا مقصد جاری کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کو روکنے کے لیے ایسا راستہ تلاش کرنا ہے جس پر متعلقہ فریق رضامند ہو سکیں۔ تاہم ایرانی عہدیدار کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ تجاویز پر بنیادی اختلافات برقرار ہیں اور کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مزید مذاکرات درکار ہوں گے۔
تازہ سفارتی سرگرمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں سلامتی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوئی ہے۔ یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب میں ایک ریفائنری کو نشانہ بنانے کے دعوے نے توانائی کی رسد اور علاقائی تصادم کے پھیلاؤ سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔ سعودی حکام اور دیگر فریقوں کے بیانات، فوجی پیش رفت اور سفارتی رابطے عالمی تیل منڈیوں پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں۔
ایرانی عہدیدار کا یہ کہنا کہ پیش کیے گئے خیالات ناقابل قبول ہیں، کسی حتمی مذاکراتی خاتمے کے مترادف نہیں۔ سفارتی ثالثی میں ابتدائی تجاویز پر اعتراضات کے بعد نظرثانی شدہ فارمولے پیش کیے جانا معمول کا حصہ ہو سکتا ہے۔ دستیاب معلومات میں مجوزہ معاہدے کی تمام شرائط عوامی نہیں کی گئیں، اس لیے اختلاف کے ہر نکتے کی آزادانہ جانچ ممکن نہیں۔
علاقائی ممالک اور ثالث ریاستیں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، مگر کسی پائیدار سمجھوتے کے لیے فوجی کارروائیوں، سلامتی کی ضمانتوں اور باہمی اعتماد سے متعلق اختلافات حل کرنا ضروری ہوگا۔ فی الحال اہم پیش رفت یہی ہے کہ رابطے جاری ہیں لیکن ایران نے تازہ پیشکش کو موجودہ صورت میں قبول نہیں کیا۔

