یروشلم: اسرائیل کے تازہ پارلیمانی انتخابات واضح اکثریت کے بغیر ختم ہونے کے بعد نئی حکومت کی تشکیل غیر یقینی ہو گئی ہے، جبکہ وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے سیاسی مذاکرات مکمل ہونے تک نگراں حیثیت میں عہدے پر رہنے کا امکان ہے۔ رائٹرز کے مطابق انتخابی نتیجے نے نیتن یاہو کے بلاک اور مخالف سیاسی قوتوں کے درمیان سخت مقابلے کی تصویر پیش کی ہے۔

انتخابی عمل کے بعد مختلف جماعتیں اور اتحاد حکومت سازی کے لیے درکار پارلیمانی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسرائیلی نظام میں کسی ایک جماعت کے لیے تنہا اکثریت حاصل کرنا عموماً مشکل ہوتا ہے اور مخلوط حکومت کے قیام کے لیے متعدد جماعتوں کے درمیان مذاکرات ضروری ہوتے ہیں۔ موجودہ نتائج نے بھی اسی عمل کو مرکزی اہمیت دے دی ہے۔

نیتن یاہو اور ان کے سیاسی حریف، جن میں سابق فوجی سربراہ گادی آئزنکوٹ نمایاں ہیں، اپنے اپنے اتحاد کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انتخابی تعطل کا مطلب یہ نہیں کہ نیتن یاہو نئی حکومت کی قیادت یقینی طور پر کریں گے؛ نگراں وزیراعظم کے طور پر ان کا تسلسل اس وقت تک ہو سکتا ہے جب تک نئی پارلیمانی اکثریت اور حکومت تشکیل نہیں پا جاتی۔

اسرائیلی انتخابات کا نتیجہ ایسے وقت آیا ہے جب ملک کو علاقائی سلامتی، ایران کے ساتھ کشیدگی اور داخلی سیاسی اختلافات کا سامنا ہے۔ نگراں حکومت کے اختیارات مکمل طور پر ختم نہیں ہوتے، لیکن بڑی پالیسی تبدیلیوں اور طویل مدتی فیصلوں پر سیاسی و قانونی حدود زیادہ نمایاں ہو سکتی ہیں۔ اس کے باوجود فوری قومی سلامتی کے معاملات میں حکومت کارروائی کی صلاحیت برقرار رکھتی ہے۔

اگلا اہم مرحلہ حتمی انتخابی نتائج، جماعتوں کی سفارشات اور حکومت سازی کے رسمی عمل کا ہوگا۔ کسی بھی اتحاد کے لیے پارلیمنٹ میں قابل عمل اکثریت ثابت کرنا ضروری ہے۔ جب تک یہ عمل مکمل نہیں ہوتا، انتخابی نتیجے کو کسی ایک سیاسی رہنما کی حتمی کامیابی یا شکست قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔