ایرانی ریال کی اوپن مارکیٹ قدر میں تیز کمی کے بعد ایک امریکی ڈالر کی قیمت 20 لاکھ ریال سے تجاوز کرنے کی رپورٹ سامنے آئی ہے۔ ایکسپریس اردو کی براہ راست دیکھی گئی خبر کے مطابق ایرانی کرنسی نے ہفتے کا آغاز تقریباً 18 لاکھ 65 ہزار ریال فی ڈالر سے کیا تھا، جس کے بعد مزید دباؤ آیا اور شرح ایک نئی کم ترین سطح تک پہنچی۔ یہ اعداد سرکاری ترجیحی شرح نہیں بلکہ رپورٹ شدہ اوپن مارکیٹ صورتحال سے متعلق ہیں۔
رپورٹ نے کرنسی کی کمزوری کو ایران پر بڑھتے معاشی دباؤ، امریکا کی جانب سے مزید پابندیوں کے امکان اور واشنگٹن کے ساتھ سفارتی کوششوں میں تعطل کی بے یقینی سے جوڑا۔ رائٹرز کے حوالے سے بتایا گیا کہ غیر ملکی کرنسی کی طلب اور ممکنہ اضافی اقتصادی دباؤ کے خدشات نے ریال پر منفی اثر ڈالا۔ تیل کی برآمدات، زرمبادلہ تک رسائی اور بین الاقوامی مالی لین دین کے بارے میں غیر یقینی بھی مارکیٹ کے رویے میں شامل عوامل کے طور پر بیان ہوئی۔
آبنائے ہرمز کے گرد کشیدگی نے بھی کاروباری اور مالی خطرات میں اضافہ کیا ہے۔ کسی اہم بحری راستے میں رکاوٹ یا پابندیوں کی توقع توانائی کی برآمد، ادائیگیوں اور درآمدی لاگت کے بارے میں خدشات بڑھا سکتی ہے۔ تاہم موجودہ رپورٹ نے ریال کی روزانہ حرکت کے لیے کسی ایک عامل کو قطعی سبب قرار نہیں دیا؛ کرنسی بازار میں طلب، دستیابی، حکومتی اقدامات اور سیاسی توقعات بیک وقت اثر انداز ہوتے ہیں۔
کمزور کرنسی عام شہریوں کے لیے درآمدی خوراک، ادویات، مشینری یا خام مال کو مہنگا کر سکتی ہے، جبکہ مقامی کاروبار کو قیمت اور سپلائی کی منصوبہ بندی میں دشواری ہوتی ہے۔ رپورٹ میں ایران میں ضروری اشیا کی قیمتوں پر عوامی تشویش کا ذکر ہے، لیکن کسی مخصوص شے کی تازہ قیمت یا ملک گیر مہنگائی کی نئی سرکاری شرح فراہم نہیں کی گئی۔ اس لیے اس خبر سے اضافی اعداد یا مستقبل کی قیمتوں کی پیش گوئی اخذ نہیں کی جا رہی۔
ایکسپریس نے تاریخی موازنہ دیتے ہوئے لکھا کہ 1970 کی دہائی کے وسط میں ایک ڈالر تقریباً 70 سے 75 ریال کے برابر تھا۔ طویل مدتی موازنہ کرنسی کی قدر میں بڑے فرق کو ظاہر کرتا ہے، مگر اس دوران مالی نظام، کرنسی اکائیاں، پابندیاں اور اقتصادی ڈھانچہ بھی بدلا ہے۔ موجودہ خبر کا بنیادی قابل تصدیق نکتہ اوپن مارکیٹ میں 20 لاکھ ریال فی ڈالر کی حد عبور ہونے کی رپورٹ ہے۔
شرح مبادلہ تیزی سے بدل سکتی ہے، اس لیے بعد کی سطح مختلف ہو سکتی ہے۔ اردو ہیڈ لائنز موجودہ عدد کو وقت سے منسلک رپورٹ شدہ شرح کے طور پر پیش کر رہا ہے اور اسے مستقل سرکاری نرخ نہیں کہتا۔ مرکزی بینک، معتبر مارکیٹ ڈیٹا یا نئی معتبر رپورٹ سے مادی تبدیلی سامنے آنے پر اسی واقعے کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔
— اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




