کراچی: صدر مملکت آصف علی زرداری نے کیٹی بندر کی مجوزہ تعمیر و ترقی کو جامع منصوبہ بندی کے تحت آگے بڑھانے کی ہدایت کرتے ہوئے اسے پاکستان کے لیے ایک اضافی بحری گزرگاہ بنانے کی صلاحیت کا حامل قرار دیا ہے۔ ایکسپریس اردو کی 24 اگست کی رپورٹ کے مطابق صدر کو چائنا ہاربر انجینئرنگ کمپنی کے وفد نے منصوبے کے تصوراتی ماسٹر پلان پر بریفنگ دی۔

صدر زرداری نے کہا کہ بندرگاہ کے ساتھ سڑکوں کا نظام، بجلی اور پانی کی فراہمی، صنعتی ڈھانچہ اور دوسری ضروری سہولیات بھی یقینی بنانا ہوں گی۔ انہوں نے چینی ادارے کی پاکستان کے انفرااسٹرکچر اور بحری شعبے میں دلچسپی کو سراہا اور چینی ماہرین و متعلقہ پاکستانی اداروں کے درمیان مضبوط تکنیکی رابطہ کاری پر زور دیا۔

بریفنگ میں متعدد ٹرمینلز، رسدی سہولیات اور معاون انفرااسٹرکچر کے ساتھ ایک نئی گہری سمندری بندرگاہ کی تجویز پیش کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق پہلے مرحلے میں 500 میٹر طویل کُوے پر مشتمل کثیرالمقاصد ٹرمینل شامل ہے، جس کی ابتدائی انجینئرنگ لاگت تقریباً 522.34 ملین امریکی ڈالر بتائی گئی۔ یہ ابتدائی تخمینہ ہے؛ منظور شدہ حتمی بجٹ، مالی بندوبست یا تعمیر شروع ہونے کی تاریخ کا اعلان رپورٹ میں نہیں۔

صدر نے منصوبے میں ماحولیاتی تحفظ کو بنیادی اہمیت دینے کی ہدایت کی، خصوصاً دریائے سندھ کے ڈیلٹا کے حساس ماحولیاتی نظام اور مقامی ماہی گیر برادری کے مفادات و روزگار کو مدنظر رکھنے پر زور دیا۔ اس شرط کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ بندرگاہی اور صنعتی ترقی کے ساتھ ساحلی ماحول، پانی کے بہاؤ اور مقامی معاش کے اثرات کا الگ تکنیکی جائزہ درکار ہوگا۔ دستیاب خبر کسی مکمل ماحولیاتی منظوری کا دعویٰ نہیں کرتی۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، سینیٹرز سلیم مانڈوی والا اور شیری رحمان، صوبائی وزرا اور اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔ منصوبے کے نفاذ اور مالیاتی فریم ورک کے مناسب طریقۂ کار پر تکنیکی پیش رفت جاری رکھنے کی ضرورت اجاگر کی گئی۔ موجودہ مرحلہ تصوراتی منصوبہ بندی اور مشاورت کا ہے؛ اسے مکمل مالی منظوری، ٹھیکا دینے یا تعمیر کے آغاز کے مساوی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ آئندہ اہم مراحل تفصیلی فزیبلٹی، ماحولیاتی جانچ، مالی ماڈل اور باقاعدہ منظوری ہوں گے۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک