انڈس ریور سسٹم اتھارٹی، ارسا، نے 22 ستمبر کو ملک کے مختلف رم اسٹیشنوں اور بڑے آبی ذخائر سے پانی کی آمد و اخراج کے تازہ اعداد جاری کیے ہیں۔ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق مختلف رم اسٹیشنوں سے مجموعی طور پر 193,800 کیوسک پانی چھوڑا گیا جبکہ مجموعی آمد 121,500 کیوسک ریکارڈ کی گئی۔

ارسا کے اعداد کے مطابق دریائے سندھ پر تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح 1534.63 فٹ تھی، جو 1402 فٹ کی ڈیڈ لیول سطح سے 132.63 فٹ بلند ہے۔ تربیلا میں پانی کی آمد 72,000 کیوسک اور اخراج 125,000 کیوسک بتایا گیا۔ یہ فرق اس روز ذخیرے اور downstream ضروریات کے انتظام کی روزانہ تصویر فراہم کرتا ہے۔

دریائے جہلم پر منگلا ڈیم میں پانی کی سطح 1217.60 فٹ ریکارڈ کی گئی، جو 1050 فٹ کے ڈیڈ لیول سے 167.60 فٹ بلند ہے۔ منگلا میں آمد 11,700 کیوسک اور اخراج 31,000 کیوسک رہا۔ دونوں بڑے ذخائر کے اعداد زرعی اور بجلی کے نظام کی منصوبہ بندی کے لیے مسلسل مانیٹر کیے جاتے ہیں۔

دیگر مقامات پر کالاباغ سے 139,700، تونسہ سے 131,600، گڈو سے 106,900 اور سکھر سے 51,100 کیوسک پانی کا اخراج رپورٹ ہوا۔ دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر 15,500 کیوسک جبکہ دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر 7,000 کیوسک پانی چھوڑا گیا۔

یہ اعداد ایک مخصوص دن کے آبی بہاؤ اور ذخائر کی صورت حال کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ زرعی آبپاشی، بجلی کی پیداوار اور ذخیرہ آب کے انتظام میں روزانہ کی آمد و اخراج اہم ہوتی ہے، تاہم طویل مدتی پانی دستیابی کا اندازہ موسمی بہاؤ، بارش، برف پگھلنے اور ذخائر کی مسلسل نگرانی سے کیا جاتا ہے۔

ارسا کی روزانہ رپورٹ میں دیے گئے اعداد کو سیلاب یا خشک سالی کی الگ پیش گوئی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ پانی کی مجموعی صورت حال کے لیے متعلقہ موسمیاتی، ہائیڈرولوجیکل اور ذخیرہ جاتی ڈیٹا کو یکجا دیکھنا ضروری ہوتا ہے۔ 22 ستمبر کی رپورٹ بنیادی طور پر اس دن کے آپریشنل بہاؤ اور ڈیم سطحوں کا سرکاری ریکارڈ ہے۔