اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار 24 سے 28 اگست تک برطانیہ کا سرکاری دورہ کریں گے۔ ڈان کی 23 اگست کی رپورٹ میں دفتر خارجہ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس دورے کا مقصد پاکستان اور برطانیہ کے درمیان سیاسی، اقتصادی، سلامتی اور عوامی رابطوں کو آگے بڑھانا ہے۔ پروگرام کے مطابق اسحاق ڈار لندن میں برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ اور فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس کے وزیر اسٹیفن ڈوٹی سمیت برطانوی حکومت کے سینئر نمائندوں سے ملاقاتیں کریں گے۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ گفتگو میں دوطرفہ تعلقات کے مختلف پہلو، علاقائی صورت حال، تجارت اور سرمایہ کاری، انسداد دہشت گردی، غیر قانونی نقل مکانی اور انسانی اسمگلنگ کی روک تھام جیسے موضوعات شامل رہیں گے۔ حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک نے پولیس تربیت، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے رابطے اور منظم جرائم کے خلاف تعاون بڑھانے پر بھی بات کی ہے، اس لیے لندن ملاقاتوں میں ان جاری معاملات کی پیش رفت کا جائزہ متوقع ہے۔
نائب وزیراعظم انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے سیکرٹری جنرل سے بھی ملیں گے۔ دفتر خارجہ کے مطابق اس ملاقات میں صومالی قزاقوں کے ہاتھوں ایم ٹی آنر 25 نامی جہاز پر روکے گئے پاکستانی عملے کے معاملے کو اٹھایا جائے گا۔ پاکستان اس معاملے میں عملے کی سلامتی، ان کی جلد رہائی اور متعلقہ بین الاقوامی اداروں کے تعاون کو اہم قرار دیتا ہے۔ ملاقات کے بارے میں جو معلومات جاری ہوئی ہیں ان میں کسی حتمی نتیجے یا رہائی کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
اسحاق ڈار دولت مشترکہ کی سیکرٹری جنرل شرلی ایورکور بوچوے، برطانوی پارلیمان کے ارکان اور برطانیہ میں مقیم پاکستانی برادری کے نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گے۔ پاکستانی نژاد برطانوی شہری دونوں ممالک کے درمیان تجارت، تعلیم، پیشہ ورانہ خدمات اور ثقافتی رابطوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ دفتر خارجہ کے مطابق دورے کے دوران اس برادری کے مسائل اور دوطرفہ تعاون میں ان کی شمولیت بھی زیر بحث آئے گی۔
یہ دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب پاکستان اور برطانیہ نے حالیہ عرصے میں تجارت اور سلامتی کے شعبوں میں ادارہ جاتی رابطے تیز کیے ہیں۔ تاہم دورے سے متعلق جاری بیان ملاقاتوں کا شیڈول اور ترجیحات بیان کرتا ہے؛ کسی نئے معاہدے یا مالی پیکج کی منظوری کی پیشگی تصدیق نہیں کی گئی۔ اردو ہیڈلائنز اس دورے کے دوران جاری ہونے والے سرکاری اعلامیوں اور عملی نتائج کو الگ پیش رفت کے طور پر رپورٹ کرے گا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




