پشاور: لوئر جنوبی وزیرستان کی تحصیل وانا کے علاقے دوآغ میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ملا نذیر گروپ کے سابق ساتھی محمد خالد ہلاک اور ان کے ساتھ سفر کرنے والا ایک شخص زخمی ہو گیا۔ ڈان کی 23 اگست کی رپورٹ کے مطابق پولیس اور ریسکیو حکام نے واقعے کی تصدیق کی ہے۔ وانا سرکل کے ڈی ایس پی اصغر علی شاہ نے بتایا کہ دونوں افراد ہفتے کی شام رستم بازار وانا سے اپنے گھر جا رہے تھے جب قبرستان کے قریب ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی۔
پولیس کے مطابق دونوں افراد کو گولیاں لگیں۔ ریسکیو حکام نے بتایا کہ محمد خالد کی حالت تشویش ناک تھی اور وہ مزید علاج کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کیے جانے کے دوران زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ دوسرے زخمی شخص کو ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتال وانا لے جایا گیا، جہاں ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے مطابق اس کا علاج جاری ہے۔ زخمی کی شناخت اور طبی حالت کی مزید تفصیل رپورٹ میں جاری نہیں کی گئی۔
ڈی ایس پی نے محمد خالد کے ملا نذیر گروپ کے ساتھ ماضی کے تعلق کی تصدیق کی، لیکن پولیس نے حملے کے محرک یا مسلح افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی۔ ابتدائی رپورٹ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے اور مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس مرحلے پر سابق وابستگی کو حملے کی ثابت شدہ وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا اور نہ ہی کسی تنظیم نے رپورٹ میں ذمہ داری قبول کی ہے۔
ملا نذیر جنوبی وزیرستان میں ایک بااثر طالبان کمانڈر تھا۔ رپورٹ کے پس منظر کے مطابق اس کے گروپ کے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ تعلقات کشیدہ رہے اور وہ 2013 میں امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا تھا۔ یہ تاریخی پس منظر موجودہ قتل کی ذمہ داری ثابت نہیں کرتا۔ پولیس نے واضح کیا ہے کہ یہ طے کرنا ابھی باقی ہے کہ محمد خالد کی سابق وابستگی حالیہ حملے سے متعلق تھی یا نہیں۔
لوئر جنوبی وزیرستان میں حالیہ عرصے کے دوران ٹارگٹ کلنگ، دھماکوں، اغوا، بھتہ خوری اور سکیورٹی واقعات کے بارے میں مقامی تشویش بڑھی ہے۔ تاہم ہر واقعے کی الگ تفتیش ضروری ہے اور عمومی بدامنی کو کسی مخصوص حملہ آور یا مقصد کا ثبوت نہیں بنایا جا سکتا۔ اردو ہیڈلائنز نے خبر کو پولیس، ریسکیو اور ہسپتال حکام سے منسوب ڈان رپورٹ تک محدود رکھا ہے؛ حملہ آوروں، محرک اور مقدمے کے نتائج سے متعلق غیر مصدقہ قیاس شامل نہیں کیا گیا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




