لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ صوبے میں ای بز اور مریم کی دستک جیسے پروگراموں کے ذریعے عوامی خدمات کو زیادہ قابل رسائی اور مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ دی نیشن کی 23 اگست کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے لودھراں سے تعلق رکھنے والے ارکان پنجاب اسمبلی سے ملاقات میں ٹیکنالوجی پر مبنی سہولتوں، ترقیاتی منصوبوں اور شہری خدمات کی فراہمی پر گفتگو کی۔

وزیراعلیٰ کے بیان کے مطابق ڈیجیٹل پلیٹ فارم کا مقصد شہریوں کو بعض سرکاری کاموں کے لیے دفاتر کے بار بار چکر لگانے سے بچانا اور خدمات کی رفتار و شفافیت بہتر کرنا ہے۔ ای بز کاروباری یا انتظامی سہولتوں کو ایک جگہ لانے کا ذریعہ ہے، جبکہ مریم کی دستک کے تحت مخصوص سرکاری خدمات شہریوں کے گھر تک پہنچانے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں اس اجلاس کے دوران کسی نئی قانونی تبدیلی، نئے بجٹ یا مکمل ہونے کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں دیا گیا۔

ملاقات میں صحت کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ لاہور کے جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی سمیت مختلف اضلاع میں کیتھ لیبز فعال کی گئی ہیں۔ کیتھ لیب دل کی شریانوں کی تشخیص اور بعض علاج کے لیے استعمال ہونے والی خصوصی سہولت ہے۔ تاہم رپورٹ میں ہر ضلع کی الگ تعداد، مریضوں کی گنجائش یا کارکردگی کا ڈیٹا موجود نہیں، اس لیے ان خدمات کے اثرات کا مکمل جائزہ مزید سرکاری اعداد و شمار سے ہی ممکن ہوگا۔

وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ پنجاب کے صحت اور تعلیم کے ادارے دوسرے صوبوں سے آنے والے افراد کو بھی خدمات دیتے ہیں۔ یہ حکومتی مؤقف ہے؛ دستیاب رپورٹ میں صوبہ وار مستفید افراد کی تعداد شامل نہیں۔ ارکان اسمبلی کو اپنے حلقوں میں ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی، عوامی مسائل کی نشاندہی اور جاری اسکیموں کی بروقت تکمیل میں کردار ادا کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔

ڈیجیٹل عوامی خدمات کی کامیابی صرف پورٹل یا ایپ کے اجرا سے نہیں بلکہ قابل اعتماد نظام، شہریوں کی آسان رسائی، شکایت کے مؤثر طریقہ کار اور ایسے افراد کے لیے متبادل سہولت سے بھی جڑی ہے جن کے پاس اسمارٹ فون یا انٹرنیٹ نہیں۔ موجودہ بیان صوبائی حکومت کی سمت واضح کرتا ہے، مگر معیار، استعمال اور نتائج جانچنے کے لیے باقاعدہ کارکردگی کے اعداد درکار ہوں گے۔

یہ خبر وزیراعلیٰ پنجاب کے اجلاس اور ان سے منسوب سرکاری مؤقف کے بارے میں دی نیشن کی رپورٹ پر مبنی ہے۔ دعووں کو اسی نسبت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے اور انہیں آزاد کارکردگی آڈٹ یا حتمی نتیجے کے طور پر نہیں لکھا گیا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک