کراچی: میر رضا علی قتل کیس کی تحقیقات میں دو الگ پیش رفت سامنے آئی ہیں۔ سندھ حکومت نے تحقیقات کا جائزہ لینے کے لیے سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سے عدالتی کمیشن قائم کرنے کی درخواست کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ پولیس ذرائع کے مطابق میر رضا کے نام پر رجسٹرڈ موبائل سم بائیو میٹرک اور دستاویزی کارروائی کے بعد دوبارہ جاری کرکے ان کی والدہ کے نام منتقل کی گئی ہے۔

ڈان کی 23 اگست کی رپورٹ کے مطابق عدالتی کمیشن کی درخواست کا فیصلہ مقتول کے والدین کی جانب سے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو تفتیش سے متعلق تحفظات سے آگاہ کرنے کے بعد کیا گیا۔ وزیراعلیٰ ہاؤس نے کہا کہ مجوزہ کمیشن تفتیش کی غیر جانب داری، شواہد کے مختلف زاویوں اور پولیس، میڈیکو لیگل یا دوسرے سرکاری اہلکاروں سے ممکنہ غفلت یا غیر قانونی عمل کے سوالات کا جائزہ لے گا۔ یہ نکات تحقیقات کا دائرہ ہیں، ثابت شدہ نتائج نہیں۔

بیان کے مطابق کمیشن سندھ ٹریبونلز آف انکوائری آرڈیننس 1969 کے تحت گواہوں کو طلب کرنے، حلف پر بیان لینے اور دستاویزات منگوانے کے لیے دیوانی عدالت جیسے اختیارات استعمال کر سکے گا۔ اس سے قیام کے 30 دن میں رپورٹ طلب کی جائے گی، تاہم مکمل انکوائری کے لیے مدت بڑھ سکتی ہے۔ کمیشن ابھی قائم نہیں ہوا اور اس کی تشکیل چیف جسٹس کو درخواست اور بعد کی کارروائی پر منحصر ہے۔

ایکسپریس اردو کی بعد کی رپورٹ میں پولیس ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ موبائل کمپنی نے پولیس کی درخواست پر میر رضا کے نام کی سم دوبارہ جاری کی۔ ذرائع کے مطابق سم کی ملکیت ان کی والدہ کے نام منتقل کی گئی ہے اور تفتیش کار اس کے ذریعے واٹس ایپ اکاؤنٹ اور دستیاب بیک اپ ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ رپورٹ میں یہ نہیں کہا گیا کہ اکاؤنٹ تک رسائی پہلے ہی کامیاب ہو چکی یا کوئی مخصوص پیغام برآمد ہوا ہے۔

ڈان کے مطابق 25 سالہ میر رضا علی 29 جولائی کو کراچی کے گلستان جوہر میں مردہ پائے گئے تھے۔ خاندان نے اغوا، تشدد اور قتل کا مؤقف اپنایا، جبکہ ابتدائی پولیس تفتیش میں خودکشی کا امکان زیر غور تھا۔ دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ایف آئی آر میں قتل کی دفعہ شامل کی گئی اور تفتیشی ٹیم میں تبدیلیاں ہوئیں۔

خاندان یا مختلف اہلکاروں کے بارے میں اٹھائے گئے سوالات فی الحال الزامات اور تفتیشی نکات ہیں۔ سم اور واٹس ایپ ڈیٹا کی کوشش ایک تحقیقاتی قدم ہے، حتمی ثبوت یا قانونی ذمہ داری کا فیصلہ نہیں۔ کمیشن کی تشکیل، ڈیجیٹل شواہد کے قانونی حصول اور عدالتی عمل کے بعد ہی نتیجہ اخذ کیا جا سکے گا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک