خیبر: لنڈی کوتل پولیس نے جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے لوگوں کو بدنام اور مبینہ طور پر بلیک میل کرنے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایکسپریس نیوز کی 23 اگست کی رپورٹ کے مطابق گرفتار شخص کی شناخت زاہد کے نام سے بتائی گئی اور پولیس نے اس کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔
پولیس کے مطابق کارروائی شاہ فہد نامی شہری کی شکایت پر کی گئی۔ شکایت اور ابتدائی پولیس مؤقف میں الزام لگایا گیا کہ مختلف جعلی اکاؤنٹس استعمال کر کے افراد کی تصاویر یا ویڈیوز شیئر کی گئیں، ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہوئی اور رقم یا دوسرے مطالبات کے لیے دھمکیاں دی گئیں۔ یہ تمام نکات الزامات اور زیر تفتیش دعوے ہیں؛ عدالت میں ثبوت کی جانچ اور فیصلہ ابھی باقی ہے۔
رپورٹ میں پولیس نے کہا کہ مبینہ نیٹ ورک سے منسلک دوسرے افراد کے بارے میں بھی تحقیقات جاری ہیں اور مزید گرفتاریاں ہو سکتی ہیں۔ تاہم کسی دوسرے شخص کی شناخت، کردار یا گرفتاری کی حتمی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔ اس مرحلے پر کسی وسیع گروہ کی موجودگی یا ہر زیر بحث اکاؤنٹ کو گرفتار شخص سے قطعی طور پر جوڑنا تفتیشی ادارے اور بعد ازاں عدالت کا معاملہ ہے۔
جعلی اکاؤنٹس، شناخت کے غلط استعمال اور آن لائن ہراسانی کے مقدمات میں ڈیجیٹل شواہد کی حفاظت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اکاؤنٹ کی ملکیت، لاگ اِن ریکارڈ، متعلقہ آلے، پیغامات کی اصل ترتیب اور رقم کے کسی لین دین کو قانونی طریقے سے ثابت کرنا ہوتا ہے۔ صرف اسکرین شاٹ یا سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا دعویٰ خود بخود کسی شخص کی مجرمانہ ذمہ داری ثابت نہیں کرتا۔
متاثرہ افراد کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ مشتبہ پیغامات، روابط اور ادائیگی کے مطالبات محفوظ کریں، اکاؤنٹ کو متعلقہ پلیٹ فارم پر رپورٹ کریں اور قانونی کارروائی کے لیے مجاز ادارے سے رجوع کریں۔ ساتھ ہی گرفتار یا نامزد شخص کو قانون کے مطابق صفائی اور منصفانہ سماعت کا حق حاصل رہتا ہے۔
اردو ہیڈلائنز نے پولیس کے دعووں اور شکایت کو واضح نسبت کے ساتھ پیش کیا ہے۔ گرفتاری کو سزا، الزام کو ثابت شدہ حقیقت اور زیر تفتیش دوسرے افراد کو مجرم قرار نہیں دیا گیا۔ مقدمے، چارج شیٹ یا عدالت سے مادی پیش رفت سامنے آنے پر خبر کو اسی ریکارڈ میں اپ ڈیٹ کیا جا سکتا ہے۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




