کوئٹہ: بلوچستان کے سرکاری حکام، جامعہ بلوچستان اور ترقیاتی شراکت داروں نے صوبے کے لائیو اسٹاک شعبے میں دیہی خواتین کی معاشی شرکت بڑھانے کے لیے وسائل، تربیت، منڈیوں اور گھریلو فیصلہ سازی تک بہتر رسائی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ڈان کی 23 اگست کی رپورٹ کے مطابق ایک ورکشاپ میں فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کی معاونت سے مکمل ہونے والی جامعہ بلوچستان کی تحقیق کے نتائج اور سفارشات پیش کی گئیں۔
تحقیق کا مقصد یہ سمجھنا تھا کہ مویشی پالنے، دودھ اور دیگر مصنوعات کی تیاری، گھر کی آمدن اور مقامی تجارت میں خواتین کا حقیقی کردار کیا ہے اور انہیں کن عملی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ شرکا کے مطابق خواتین اکثر روزمرہ نگہداشت اور پیداوار میں نمایاں حصہ لیتی ہیں، مگر زمین، قرض، تربیت، نقل و حمل، قیمت کی معلومات اور منڈی تک براہ راست رسائی محدود ہونے سے ان کی محنت کا مکمل معاشی فائدہ انہیں نہیں ملتا۔
ایف اے او کے افسر انچارج جیمز اوکوتھ نے کہا کہ خواتین کے کردار، مواقع اور پابندیوں کو سمجھے بغیر مؤثر مداخلت ڈیزائن نہیں کی جا سکتی۔ ان کے مطابق تحقیق وسائل اور منڈیوں تک رسائی اور خاندان میں فیصلہ سازی کے بارے میں شواہد فراہم کرتی ہے، جن کی بنیاد پر زیادہ جامع لائیو اسٹاک ترقی اور خواتین کی معاشی خودمختاری کے عملی راستے بنائے جا سکتے ہیں۔
بلوچستان کے محکمہ ترقی نسواں کے سیکرٹری شیر شاہ غلزئی نے کہا کہ ہنر، وسائل، منڈی اور فیصلہ سازی تک رسائی بہتر بنانا خواتین اور ان کے گھرانوں کے لیے معاشی مواقع پیدا کرنے کی بنیادی شرط ہے۔ انہوں نے ایف اے او اور جامعہ بلوچستان کی شراکت کو سراہتے ہوئے تحقیق کو عملی پالیسی اور پروگراموں میں بدلنے کے لیے تعاون جاری رکھنے کی حمایت کی۔
یہ مطالعہ یورپی یونین کی مالی معاونت سے چلنے والے سیلاب کے بعد بحالی اور بلوچستان کے لائیو اسٹاک شعبے کو مضبوط بنانے کے منصوبے کے تحت کیا گیا۔ ورکشاپ میں سفارشات پیش ہونا پالیسی نافذ ہونے کے برابر نہیں؛ بجٹ، ذمہ دار اداروں، اضلاع، مستفید ہونے والی خواتین کی تعداد اور عمل درآمد کی مدت ابھی واضح نہیں کی گئی۔ آئندہ مرحلے میں قابلِ پیمائش اہداف، مقامی خواتین کی مشاورت، منڈی سے رابطے اور پروگرام کے نتائج کی آزاد نگرانی اہم ہوں گے۔ اردو ہیڈلائنز اس پیش رفت کو تحقیق سے پالیسی سازی کی جانب قدم کے طور پر رپورٹ کر رہا ہے، مکمل اصلاحات کے نفاذ کے طور پر نہیں۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




