اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار برطانیہ کا سرکاری دورہ مکمل کرنے کے بعد ترکیہ کے شہر استنبول پہنچ گئے ہیں۔ ڈان کی 30 اگست 2026 کو سہ پہر 3 بج کر 40 منٹ پر تازہ کی گئی رپورٹ کے مطابق دفتر خارجہ نے بتایا کہ وہ استنبول میں سرکاری مصروفیات میں حصہ لیں گے۔ یہ پیش رفت پہلے اعلان کردہ روانگی کے بعد ان کی ترکیہ آمد کی تصدیق کرتی ہے، تاہم دفتر خارجہ نے آئندہ ملاقاتوں کا مکمل شیڈول یا متوقع نتائج ابھی جاری نہیں کیے۔
دفتر خارجہ کے مطابق استنبول پہنچنے پر اسحاق ڈار کا استقبال ترکیہ کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف برائے انتظامیہ بریگیڈیئر جنرل شنول وارول، ترکیہ میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر یوسف جنید، ترک وزارت خارجہ کے سفیر جہاد ارگینائے اور ترکیہ حکومت کے دیگر سینئر عہدیداروں نے کیا۔ رپورٹ میں استقبال کرنے والے حکام کے نام دیے گئے ہیں، لیکن اسے کسی باضابطہ مذاکراتی نتیجے، معاہدے یا مشترکہ اعلامیے کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔
اس سے پہلے دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ اسحاق ڈار نے برطانیہ کا کامیاب سرکاری دورہ مکمل کیا۔ ڈان کے مطابق وہاں انہوں نے برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ، پاکستان سے متعلق وزیر مملکت اسٹیفن ڈوٹی، قومی سلامتی کے مشیر جوناتھن پاول، بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے سیکریٹری جنرل آرسینیو ڈومنگیز اور دولت مشترکہ کی سیکریٹری جنرل شرلی ایورکور بوچوے سمیت متعدد حکام سے ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے پاکستانی نژاد برطانوی پارلیمنٹیرینز اور برطانیہ میں مقیم پاکستانی برادری کے افراد سے بھی رابطہ کیا۔
ڈان کی رپورٹ نے استنبول کی مصروفیات کو علاقائی چار وزرائے خارجہ، یا آر فور، اجلاس کے پس منظر میں بیان کیا ہے۔ ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے اسحاق ڈار کو رواں ماہ اس اجلاس میں شرکت کی دعوت دی تھی اور دفتر خارجہ کے مطابق انہوں نے دعوت قبول کرکے شرکت کی تصدیق کی تھی۔ اس گروپ میں ترکیہ اور پاکستان کے ساتھ سعودی عرب اور مصر شامل ہیں۔ تاہم تازہ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسحاق ڈار کی کون سی دوطرفہ ملاقات کس وقت ہوگی یا اجلاس سے کوئی تحریری نتیجہ کب جاری کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق آر فور گروپ علاقائی سلامتی پر توجہ دیتا ہے اور مارچ میں امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں کے دوران سامنے آیا تھا۔ ڈان نے لکھا کہ استنبول کی مجوزہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب مذاکرات رکے ہوئے ہیں اور تقریباً چھ ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے آثار محدود ہیں۔ یہ علاقائی پس منظر ہے؛ دستیاب خبر کسی نئے مذاکراتی معاہدے یا جنگ بندی کی تصدیق نہیں کرتی۔
اس گروپ کا گزشتہ اجلاس جون میں قاہرہ میں ہوا تھا، جہاں رکن ممالک نے امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کا خیرمقدم کیا۔ اس سے پہلے مارچ میں ایک اجلاس ریاض میں مشاورتی وزارتی ملاقات کے موقع پر اور دوسرا اسلام آباد میں ہوا تھا۔ تازہ رپورٹ میں ان سابقہ اجلاسوں کا ذکر استنبول کی سفارتی سرگرمی کے تناظر کے طور پر کیا گیا ہے، نہ کہ کسی نئے فیصلے کے اعلان کے طور پر۔
اس اپ ڈیٹ کا تصدیق شدہ دائرہ دفتر خارجہ کے بیان اور ڈان کے براہ راست چیک کیے گئے متن تک محدود ہے: اسحاق ڈار برطانیہ کا دورہ مکمل کرکے استنبول پہنچ چکے ہیں، نامزد ترک و پاکستانی حکام نے ان کا استقبال کیا اور وہ سرکاری مصروفیات انجام دیں گے۔ ملاقاتوں کے باضابطہ نتائج، ممکنہ مشترکہ اعلامیہ یا کسی نئے معاہدے کو صرف متعلقہ سرکاری یا معتبر بعد کی رپورٹ سامنے آنے پر الگ تازہ کاری کے طور پر شامل کیا جائے گا۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




