اسلام آباد: پاکستانی طلبہ نے ہارورڈ ماڈل یونائیٹڈ نیشنز چائنا میں وفد اور انفرادی سطح پر متعدد اعزاز حاصل کیے ہیں۔ ایکسپریس اردو کی 30 اگست 2026 کی رپورٹ کے مطابق سیڈار کالج اینڈ اسکول کے وفد نے 70 سے زیادہ شریک وفود کے درمیان بہترین مختصر وفد کا اعزاز حاصل کیا۔ رپورٹ نے اسے پاکستانی طلبہ کی عالمی سطح پر سفارتی مباحث، قیادت اور تنقیدی سوچ کی کارکردگی سے جوڑا ہے۔

ایکسپریس اردو کے مطابق سیڈار کالج اینڈ اسکول کے طلبہ نے مجموعی طور پر پانچ انفرادی اعزاز جیتے۔ ان میں تین بہترین مندوب اور دو نمایاں سفارتی کارکردگی کے اعزاز شامل تھے۔ نوین راج، محمد احمد حسین اور ملیحہ علی کو بہترین مندوب قرار دیا گیا، جبکہ سلیقہ مرتضیٰ اور علیشبا وزیر کو بہترین سفارت کار کے اعزاز سے نوازا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستانی طلبہ نے عالمی مسائل سے متعلق مباحث کے دوران سفارت کاری، قیادت اور تنقیدی سوچ کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ ماڈل یونائیٹڈ نیشنز میں طلبہ مختلف ممالک یا اداروں کی نمائندگی کرتے ہوئے مقررہ موضوعات پر گفتگو، قرارداد سازی اور مذاکرات کی مشق کرتے ہیں۔ تاہم دستیاب خبر نے ہر طالب علم کی کمیٹی، تفویض کردہ ملک، قرارداد یا انفرادی اسکور کی مکمل تفصیل فراہم نہیں کی۔

سیڈار کے وفد سے الگ، بیکن ہاؤس اسکول لاہور کے طالب علم حسام معظم نے بھی پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے آنریبل مینشن حاصل کیا۔ ایکسپریس اردو نے ان کی تقریری صلاحیت، اعتماد اور سفارتی مہارت کو نمایاں کیا۔ چونکہ خبر نے حسام معظم کو سیڈار کے پانچ انفرادی اعزازات کی فہرست سے الگ بیان کیا ہے، اس لیے اس رپورٹ میں دونوں نتائج کو خلط ملط نہیں کیا گیا۔

بہترین مختصر وفد کا اعزاز وفد کی مجموعی کارکردگی سے متعلق بتایا گیا ہے، جبکہ بہترین مندوب، سفارتی کارکردگی اور آنریبل مینشن انفرادی سطح کے نتائج ہیں۔ ان مختلف زمروں کو ایک ہی عدد میں جمع کرنا درست نہیں ہوگا۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق سیڈار وفد کے پانچ انفرادی اعزاز الگ ہیں اور بیکن ہاؤس کے طالب علم کا آنریبل مینشن ایک الگ کامیابی ہے۔

ایکسپریس اردو نے مقابلے کا مقام ہارورڈ ماڈل یونائیٹڈ نیشنز چائنا بتایا ہے اور شریک وفود کی تعداد 70 سے زیادہ لکھی ہے۔ خبر میں پروگرام کی مکمل تاریخیں، منتظمین کی تفصیلی فہرست، تمام ممالک یا اداروں کے نام اور ہر زمرے کے مکمل نتائج شامل نہیں۔ اسی وجہ سے یہ رپورٹ صرف ان پاکستانی نتائج تک محدود ہے جو براہ راست چیک کیے گئے متن میں واضح طور پر بیان ہوئے ہیں۔

طلبہ کی کامیابی تعلیمی اداروں میں مباحثہ، تحقیق، عوامی گفتگو اور مذاکراتی تربیت کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، لیکن ایک مقابلے کا نتیجہ پورے تعلیمی نظام یا تمام پاکستانی طلبہ کی کارکردگی کا جامع پیمانہ نہیں۔ یہ خبر مخصوص وفود اور طلبہ کے حاصل کردہ اعزازات سے متعلق ہے۔ اداروں یا منتظمین کی جانب سے مکمل نتیجہ فہرست سامنے آنے پر کمیٹیوں اور انفرادی زمروں کی مزید تفصیل الگ سے شامل کی جا سکتی ہے۔

یہ رپورٹ ایکسپریس اردو کے براہ راست چیک کیے گئے متن پر مبنی ہے۔ اعزازات، شریک وفود کی تعداد اور طلبہ کے نام اسی ذریعہ سے لیے گئے ہیں؛ کوئی نیا اسکور، درجہ بندی، اقتباس یا مقابلے کا نتیجہ شامل نہیں کیا گیا۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک