اسلام آباد: وفاقی حکومت نے دارالحکومت کو خودمختار انتظامی یونٹ کا درجہ دیے جانے کی صورت میں مقامی سطح پر نئے ٹیکس یا محصولات متعارف کرانے کی تجاویز پر غور شروع کر دیا ہے۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق اس مجوزہ نظام سے حاصل ہونے والی آمدن کو ہسپتالوں، اسکولوں، کالجوں، فلاحی منصوبوں اور انتظامی ڈھانچے کے اخراجات کے لیے استعمال کرنے کی تجاویز زیرِ غور ہیں۔

سرکاری سطح پر ابھی کسی نئے ٹیکس کی حتمی منظوری یا شرح کا اعلان نہیں کیا گیا۔ رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مختلف ممکنہ ریونیو ذرائع تیار کیے جا رہے ہیں اور انہیں پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے درمیان آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران زیرِ بحث لایا جا سکتا ہے۔ اس لیے موجودہ مرحلے کو پالیسی تیاری اور مشاورت کا عمل سمجھا جا رہا ہے، نہ کہ نافذ شدہ ٹیکس فیصلہ۔

حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری قرض پروگرام کے اگلے جائزے میں محصولات، اخراجات اور مالیاتی نظم و ضبط سے متعلق اقدامات اہم موضوعات میں شامل رہنے کی توقع ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر زیرِ غور تجاویز منظور ہوئیں تو انہیں آئندہ مالی سال کے بجٹ کے ذریعے متعارف کرانے کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ٹیکس کی نوعیت، دائرہ کار، شرح، وصولی کے طریقہ کار اور ممکنہ چھوٹ سے متعلق تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں۔

اسلام آباد کی انتظامی حیثیت میں ممکنہ تبدیلی کے ساتھ مقامی مالیاتی خود کفالت کا سوال اہم ہو جاتا ہے، کیونکہ خودمختار انتظامی ڈھانچے کو شہری خدمات کے لیے مستقل آمدنی درکار ہوتی ہے۔ زیرِ غور تجاویز کا بنیادی تصور یہ ہے کہ مقامی سطح پر جمع ہونے والی رقم دارالحکومت کی بنیادی خدمات اور انتظامی ضروریات پر خرچ کی جائے۔

اس معاملے میں آئندہ مرحلہ حکومتی پالیسی کی حتمی شکل، آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت اور قانونی یا بجٹی منظوریوں سے وابستہ ہوگا۔ چونکہ فی الحال تجاویز ابتدائی غور کے مرحلے میں ہیں، اس لیے اسلام آباد کے رہائشیوں یا کاروباروں پر کسی مخصوص نئے مالی بوجھ کا تعین کرنا قبل از وقت ہوگا۔ حتمی صورت سامنے آنے پر ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ مقامی محصولات کس بنیاد پر وصول کیے جائیں گے اور ان سے کن شہری خدمات کی مالی معاونت کی جائے گی۔