اسلام آباد: ضلعی انتظامیہ نے وفاقی دارالحکومت میں شیشہ کیفے چلانے پر اگلے حکم تک مکمل پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن کے مطابق پابندی اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر فوری عمل درآمد کے طور پر لگائی گئی ہے اور اس میں این او سی رکھنے والے اداروں سمیت کھلے اور بند مقامات پر چلنے والے تمام شیشہ کیفے شامل ہوں گے۔

ڈان کی 9 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ خلاف ورزی کرنے والے کیفے سیل کیے جائیں گے اور مالکان کے خلاف مقدمات درج کیے جا سکتے ہیں۔ اسسٹنٹ کمشنرز کو روزانہ معائنے یقینی بنانے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ یہ انتظامی پابندی ایسے وقت سامنے آئی جب اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسی روز قرار دیا کہ مناسب ریگولیٹری فریم ورک کے بغیر شیشہ کیفے موجودہ انداز میں کام جاری نہیں رکھ سکتے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ سردار محمد سرفراز ڈوگر نے متعدد شیشہ کیفوں سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران ضلعی انتظامیہ کو ایک ماہ کے اندر جامع قواعد و ضوابط مرتب کرنے کی ہدایت کی۔ سماعت میں ڈپٹی کمشنر اور اسلام آباد پولیس کے انسپکٹر جنرل سید علی ناصر رضوی ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے، جبکہ ایڈووکیٹ جنرل اور قائم مقام پراسیکیوٹر جنرل بھی عدالت میں موجود تھے۔

پولیس سربراہ نے عدالت کو بتایا کہ سابقہ عدالتی ہدایات کے بعد بعض کیفوں کے خلاف کارروائی اور مقدمات درج کیے گئے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ چھاپوں کے دوران پولیس کو بعض مقامات پر مزاحمت کا سامنا ہوا اور کچھ کیفوں میں کم عمر افراد پائے گئے۔ یہ نکات پولیس کی عدالتی بریفنگ کا حصہ ہیں؛ انفرادی کیفے مالکان کے خلاف کسی الزام کو حتمی عدالتی فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

ضلعی انتظامیہ نے تحریری جواب میں بتایا کہ مستقل وفاقی قانون سازی کی منظوری تک این او سیز ایک عبوری انتظام کے تحت جاری کیے جا رہے تھے۔ موجودہ بندوبست میں شیشہ صرف کھلی، بغیر چھت والی جگہ پر پیش کرنے اور متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر سے تحریری ٹیرس پرمٹ لینے جیسی شرائط شامل تھیں۔ انتظامیہ نے آگ سے تحفظ، بالغ صارفین کی شرط اور تمباکو کے دھوئیں سے شہریوں کو محفوظ رکھنے کے لیے قانونی و بین الاقوامی اصولوں کی پابندی کی ضرورت بھی بیان کی۔

عدالت نے واضح کیا کہ باقاعدہ قواعد بننے تک موجودہ عدالتی بندوبست مؤثر رہے گا، جبکہ ضلعی انتظامیہ نے عملی طور پر تمام شیشہ کیفوں کی سرگرمی روکنے کا اعلان کیا ہے۔ اگلا اہم مرحلہ ایک ماہ کے اندر ریگولیٹری قواعد کی تیاری اور پھر ان کی قانونی حیثیت و نفاذ کا تعین ہوگا۔