اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کو دانش اسکول کا افتتاح کیا اور اسے کم وسائل رکھنے والے باصلاحیت طلبہ کے لیے معیاری تعلیم تک رسائی بڑھانے کی کوشش قرار دیا۔ تقریب سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ بچوں کے تعلیمی مواقع ان کے خاندان کی مالی حیثیت سے طے نہیں ہونے چاہییں اور سرکاری نظام کو ایسے طلبہ کے لیے بھی اعلیٰ معیار کی تعلیم مہیا کرنی چاہیے جو مہنگے تعلیمی اداروں تک رسائی نہیں رکھتے۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق دانش اسکولوں کا تصور ابتدا میں پنجاب میں متعارف کرایا گیا تھا اور اس نیٹ ورک کا ہدف پسماندہ اور باصلاحیت طلبہ کو تعلیمی سہولت فراہم کرنا ہے۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں مختلف دانش اسکولوں سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ مناسب تعلیمی ماحول اور مواقع ملنے پر مشکل حالات سے آنے والے بچے بھی پیشہ ورانہ اور تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد صرف معروف نجی یا تاریخی تعلیمی اداروں کے معیار تک پہنچنا نہیں بلکہ تعلیمی معیار میں بہتری کی مستقل کوشش کرنا ہے۔ انہوں نے مساوی مواقع کو ریاستی ذمہ داری سے جوڑتے ہوئے کہا کہ یتیم، کم آمدنی والے یا دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کو بھی وہی مواقع ملنے چاہییں جو خوشحال گھرانوں کے بچوں کو دستیاب ہیں۔ تقریب میں وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی نے بھی شرکت اور خطاب کیا۔

رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کے دانش اسکول کی بنیاد 2024 میں رکھی گئی تھی اور کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے منصوبے کے لیے 10 ایکڑ اراضی مختص کی تھی۔ رواں سال مارچ میں اسکول کی 210 نشستوں کے لیے سات ہزار سے زیادہ درخواستیں موصول ہوئی تھیں، جس سے داخلے کی طلب کا اندازہ ہوتا ہے۔ اسکول کے بورڈ آف گورنرز نے مالی سال 2026-27 کے لیے 3.8 ارب روپے کا بجٹ بھی منظور کیا تھا۔

افتتاح کے موقع پر وزیراعظم نے طلبہ سے ملاقات بھی کی۔ حکومت اس منصوبے کو تعلیمی عدم مساوات کم کرنے کی اپنی پالیسی کے حصے کے طور پر پیش کر رہی ہے، تاہم اس کے طویل مدتی اثرات کا انحصار تدریسی معیار، شفاف داخلہ نظام، مستقل مالی وسائل اور طلبہ کے نتائج پر ہوگا۔