وزیراعظم شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا دفاع کرتے ہوئے اس فیصلے کو صوبے کی سکیورٹی اور سیاسی صورتحال سے جوڑا ہے۔ ڈان کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت نے انتہائی قدم سے پہلے بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی، جبکہ نواز شریف کا موقف تھا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر مداخلت پہلے ہونی چاہیے تھی۔

وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا تھا اور اس کی وجہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات میں صوبائی حکومت کی مبینہ عدم تعاون کو قرار دیا تھا۔ رواں ہفتے پارلیمان نے بھی ان اقدامات کی توثیق کی، تاہم اپوزیشن نے اس پر احتجاج کیا اور فیصلے کی آئینی و سیاسی بنیاد کو چیلنج کیا ہے۔

شہباز شریف نے گوجرانوالہ میں سابق رکن قومی اسمبلی محمود بشیر ورک کے انتقال پر تعزیت کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور پیپلز پارٹی کے مشترکہ وفد نے اپوزیشن سے مذاکرات کیے اور معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق مذاکرات کے باوجود پیش رفت نہ ہو سکی۔ وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے خیبرپختونخوا کی قیادت کو دہشت گردی سے نمٹنے اور صوبائی ترقی کے لیے وفاقی تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی۔ یہ حکومت کا بیان ہے، جبکہ تحریک انصاف نے گورنر راج اور ایمرجنسی کی مخالفت کی ہے۔

لندن میں صحافیوں سے گفتگو میں نواز شریف نے کہا کہ صوبے میں امن و امان اور حکمرانی کے مسائل کے باعث وفاقی مداخلت ضروری تھی۔ انہوں نے تحریک انصاف پر صوبائی سرکاری وسائل کو وفاق کے خلاف سیاسی محاذ آرائی کے لیے استعمال کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ تحریک انصاف ان الزامات اور وفاقی اقدام کے جواز سے اختلاف کرتی ہے اور اس معاملے پر قانونی و سیاسی مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مرکز اور تحریک انصاف کے درمیان کئی ہفتوں سے کشیدگی جاری تھی اور پارٹی نے اپنے بانی عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کیا تھا۔ گورنر راج کے نفاذ نے سیاسی تنازع کو آئینی بحث میں بھی تبدیل کر دیا ہے، جہاں حکومتی فریق اسے سکیورٹی ضرورت قرار دے رہا ہے جبکہ مخالفین اسے منتخب صوبائی حکومت کے اختیار میں مداخلت سمجھتے ہیں۔