نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی نے اسلام آباد کی ماتحت عدلیہ کے ججوں کے لیے بین الصوبائی روٹیشن کا طریقۂ کار متعارف کرانے کی دیرینہ تجویز اصولی طور پر قبول کرلی ہے۔ ڈان کی 5 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق ملک کے اعلیٰ عدالتی حکام نے وفاقی دارالحکومت کی ضلعی عدلیہ کے ججوں کو صوبوں میں تعیناتی یا روٹیشن کے مواقع دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ فیصلے کا تفصیلی نفاذی طریقہ اور باقاعدہ شیڈول ابھی جاری نہیں ہوا۔
اسلام آباد کی قانونی برادری ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے مطالبہ کر رہی تھی کہ وفاقی دارالحکومت کے ضلعی ججوں کو بھی وہی بین الصوبائی تبادلے اور پیشہ ورانہ تجربے کے مواقع ملنے چاہئیں جو دوسرے عدالتی ڈھانچوں میں دستیاب ہیں۔ رپورٹ کے مطابق نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی نے اس مطالبے کو اصولی طور پر منظور کرتے ہوئے اسلام آباد کی ضلعی عدلیہ کے ججوں کی صوبائی ماتحت عدالتوں کے ساتھ روٹیشن متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جس پر جلد عمل درآمد کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے مئی 2026 میں ضلعی عدلیہ کے لیے یکساں تبادلہ اور روٹیشن پالیسی کا باقاعدہ مطالبہ کیا تھا۔ بار کا مؤقف تھا کہ اسلام آباد کے ججوں کو صوبوں میں خدمات انجام دینے کا مساوی موقع ملنے سے ادارہ جاتی توازن، پیشہ ورانہ ہم آہنگی اور عدالتی نظام میں تجربے کا تبادلہ بہتر ہوسکتا ہے۔ قانونی برادری نے وفاقی دارالحکومت کی الگ آئینی اور ادارہ جاتی شناخت اور قومی بار اداروں میں اس کی نمائندگی سے متعلق وسیع معاملات بھی اٹھائے تھے۔
اسلام آباد بار کونسل اور مقامی وکلا نے کمیٹی کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی اور نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کا مطالبہ قبول کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ حامیوں کے مطابق شفاف اور یکساں روٹیشن نظام ماتحت عدلیہ میں ادارہ جاتی توازن اور عوامی اعتماد کو تقویت دے سکتا ہے۔ یہ متوقع فوائد متعلقہ نمائندوں کی رائے ہیں؛ ان کا عملی جائزہ پالیسی کے نفاذ اور نتائج کے بعد ہوگا۔
دوسری جانب ضلعی عدلیہ کے بعض افسران نے ممکنہ روٹیشن کے بارے میں تحفظات بھی ظاہر کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق انہیں خدشہ ہے کہ بار بار نقل و حرکت سے ماتحت عدالتوں پر اضافی انتظامی دباؤ پڑسکتا ہے اور بعض مقامات پر وکلا کی جانب سے پسندیدہ احکامات کے لیے دباؤ یا احتجاج کی دھمکیوں جیسے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ یہ خدشات متعلقہ عدالتی افسران سے منسوب ہیں اور کسی ثابت شدہ عمومی رویے کا عدالتی نتیجہ نہیں۔
تفصیلی نظام بناتے وقت عدالتی حکام کو شفاف تبادلے کے مطالبے اور ججوں کی آزادی و تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔ ممکنہ قواعد میں روٹیشن کی مدت، رضامندی یا اہلیت، سنیارٹی، انتظامی اختیار، کارکردگی کا ریکارڈ، رہائش اور خاندان سے متعلق سہولت، شکایات کا طریقۂ کار اور بیرونی دباؤ سے تحفظ جیسے معاملات واضح کرنا ضروری ہوں گے۔ موجودہ رپورٹ میں ان نکات پر حتمی شرائط نہیں دی گئیں۔
یہ پیش رفت اسلام آباد ہائی کورٹ کے بعض ججوں کے صوبائی ہائی کورٹس سے وفاقی دارالحکومت منتقل کیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے، لیکن اعلیٰ عدالتوں کے آئینی تبادلے اور ضلعی عدلیہ کی انتظامی روٹیشن الگ قانونی و ادارہ جاتی عمل ہیں۔ دونوں کو ایک ہی نوعیت کا فیصلہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کی اصولی منظوری اور بین الصوبائی روٹیشن کا نظام متعارف کرانے کا فیصلہ ہے۔ کن ججوں کا کب، کہاں اور کس مدت کے لیے تبادلہ ہوگا، اس کا تعین باقاعدہ نفاذی پالیسی یا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد ہی کیا جاسکے گا۔




