وفاقی دارالحکومت کے سرکاری تعلیمی اداروں میں جدید علوم اور ٹیکنالوجی کی تدریس بہتر بنانے کے لیے اصلاحاتی پروگرام پر پیش رفت جاری ہے، جس میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، آرٹس اور ریاضی یعنی اسٹیم کے ساتھ مصنوعی ذہانت سے متعلق مہارتوں کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔ حکومتی منصوبے کا مقصد طلبہ کو روایتی نصابی تعلیم کے ساتھ ایسی عملی صلاحیتیں دینا ہے جو اعلیٰ تعلیم اور مستقبل کی روزگار منڈی میں ان کے لیے مفید ثابت ہوں۔
وفاقی تعلیمی حکام کے مطابق سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں تدریسی معیار، لیبارٹری سہولتوں اور ڈیجیٹل وسائل کی بہتری اصلاحات کا اہم حصہ ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے صرف آلات کی فراہمی کافی نہیں سمجھی جا رہی بلکہ اساتذہ کی تربیت اور نصابی سرگرمیوں میں عملی مشق کو شامل کرنا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔ اسی تناظر میں اسٹیم لیبز، کمپیوٹنگ وسائل اور نئی تدریسی تکنیکوں کو مرحلہ وار تعلیمی ماحول کا حصہ بنانے پر کام کیا جا رہا ہے۔
مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نے دنیا بھر میں اسکول سطح پر ڈیجیٹل خواندگی کی اہمیت بڑھا دی ہے۔ اسلام آباد میں زیر عمل اصلاحات میں طلبہ کو بنیادی کمپیوٹنگ، مسئلہ حل کرنے، تخلیقی سوچ اور ذمہ دارانہ ٹیکنالوجی استعمال کی صلاحیتیں دینے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ نئی سہولتوں کے ساتھ اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت ناگزیر ہے تاکہ ٹیکنالوجی کلاس روم میں محض نمائش کے بجائے مؤثر تدریسی آلہ بن سکے۔
تعلیمی اصلاحات کے نتائج کا انحصار اسکولوں کے درمیان سہولتوں کے فرق کو کم کرنے، آلات کی دیکھ بھال، مسلسل انٹرنیٹ رسائی اور تربیت یافتہ تدریسی عملے کی دستیابی پر ہوگا۔ سرکاری شعبے میں بڑے پیمانے پر ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے منصوبوں کو عموماً خریداری کے بعد دیکھ بھال، تکنیکی معاونت اور یکساں نفاذ جیسے مسائل کا سامنا رہتا ہے، اس لیے منصوبے کی کامیابی کے لیے مستقل نگرانی اہم ہوگی۔
وفاقی حکومت نے اسلام آباد کے تعلیمی اداروں کو اصلاحات کے لیے ایک نمایاں مرکز کے طور پر استعمال کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ اگر جدید لیبز، تربیت اور نصابی تبدیلیاں مؤثر انداز میں نافذ ہوتی ہیں تو یہ تجربہ دیگر علاقوں میں سرکاری تعلیم کے ڈیجیٹل اور تکنیکی معیار کو بہتر بنانے کے لیے بھی ایک قابل عمل نمونہ فراہم کر سکتا ہے۔
