اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں سو فیصد ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کے قیام کے لیے متعلقہ حکام کو واضح روڈمیپ اور وقت کے پابند اہداف تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم آفس کے مطابق یہ ہدایات جمعہ کو اسلام آباد میں کیش لیس معیشت کے فروغ سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس میں دی گئیں، جہاں ملک بھر میں ڈیجیٹل ادائیگیوں، انٹرنیٹ رسائی اور سرکاری لین دین کی ڈیجیٹلائزیشن پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کو استعمال کرنے والے شہریوں کو درپیش مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کیش لیس معیشت کے فروغ کے لیے پورے ملک میں انٹرنیٹ کی دستیابی اور عوام کی ٹیکنالوجی تک آسان رسائی یقینی بنانا ضروری ہے۔ حکومت کے مطابق راست کیو آر کوڈ کے ذریعے ادائیگیوں کا نظام اس پالیسی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

اجلاس میں وزیراعظم نے صارفین اور تاجروں کے درمیان راست کیو آر کوڈ کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگیوں کی حوصلہ افزائی کی اسکیم جاری رکھنے کی ہدایت کی۔ بجلی اور گیس کے صارفین کو یوٹیلیٹی بلوں پر چھپے کیو آر کوڈ کے ذریعے ادائیگی کی ترغیب دینے کے لیے میڈیا مہم چلانے کا بھی کہا گیا۔ تمام وفاقی وزارتوں اور سرکاری اداروں کو کیش لیس معیشت کے منصوبے پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی۔

وزیراعظم آفس کے مطابق اجلاس کو بتایا گیا کہ وفاقی اور صوبائی سرکاری اداروں میں ادائیگیوں کی ڈیجیٹلائزیشن تیزی سے جاری ہے اور بیشتر اداروں میں ادائیگیاں دسمبر 2026 تک مکمل طور پر ڈیجیٹل کرنے کا ہدف ہے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی تمام ادائیگیاں پہلے ہی ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے کی جا رہی ہیں۔ ان علاقوں کے لیے بھی جدید ادائیگی نظام تیار کرنے پر کام جاری ہے جہاں انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب نہیں یا محدود ہے۔

اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ آسان اسائنمنٹ اکاؤنٹ کے ذریعے چیک پر مبنی ادائیگیاں 15 نومبر سے بند کر کے انہیں راست ڈیجیٹل نظام پر منتقل کیا جائے گا۔ اس تبدیلی کے لیے ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ افسران کی تربیت مکمل کیے جانے کی اطلاع بھی دی گئی۔ یہ اقدام سرکاری ادائیگیوں میں نقد اور چیک کے استعمال کو کم کرنے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔

مکمل ڈیجیٹل ادائیگیوں کا ہدف صرف ادائیگی کے ذرائع تبدیل کرنے تک محدود نہیں ہوگا۔ اس کے لیے قابل اعتماد انٹرنیٹ، بینکاری اور ڈیجیٹل اکاؤنٹس تک رسائی، سائبر سکیورٹی، صارفین کی شکایات کے حل اور ایسے شہریوں کے لیے متبادل انتظامات بھی اہم ہوں گے جو ابھی ڈیجیٹل مالی خدمات استعمال نہیں کرتے۔ وزیراعظم نے اسی تناظر میں ملک گیر انٹرنیٹ رسائی اور ٹیکنالوجی تک آسان رسائی کو بنیادی شرط قرار دیا ہے۔

حکومت نے کیش لیس معیشت کو مالیاتی نظام میں شفافیت اور دستاویزی لین دین بڑھانے کی اصلاحات سے جوڑا ہے۔ تازہ ہدایت کے بعد متعلقہ اداروں سے اب ایسا عملی روڈمیپ درکار ہوگا جس میں اہداف کے ساتھ مدت بھی واضح ہو۔ اجلاس میں سو فیصد نظام کے مکمل نفاذ کی حتمی تاریخ نہیں بتائی گئی، البتہ بیشتر سرکاری اداروں کی ادائیگیوں کے لیے دسمبر 2026 کا ہدف سامنے آیا ہے۔