اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف علاقوں میں موبائل وائس کال اور انٹرنیٹ سروس کے معیار کی خصوصی فیلڈ جانچ کے دوران بعض مقامات پر خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔ پی ٹی اے کے ابتدائی جائزے کے مطابق سروے کیے گئے بیشتر علاقوں میں وائس اور ڈیٹا سروس عمومی طور پر تسلی بخش رہی، تاہم کچھ مقامات پر کال کے معیار اور انٹرنیٹ سروس میں بہتری کی ضرورت سامنے آئی۔

یہ خصوصی معائنہ صارفین کی جانب سے موبائل ٹیلی فونی اور ڈیٹا سروس سے متعلق شکایات کے بعد کیا گیا۔ پی ٹی اے کے چیئرمین میجر جنرل ریٹائرڈ حفیظ الرحمان نے اتھارٹی کے ارکان اور سینئر حکام کے ہمراہ فیلڈ سرگرمی کی قیادت کی۔ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی، موبائل آپریٹرز اور میڈیا کے نمائندے بھی مختلف مقامات پر جانچ کے عمل میں شریک ہوئے۔

پی ٹی اے کی ٹیموں نے 4G کوریج، وائس کال کے معیار، کال کنکشن کی کامیابی، کال کے تسلسل اور موبائل ڈیٹا کی رفتار سمیت مختلف اشاریوں کا جائزہ لیا۔ تین ٹیموں نے الگ الگ روٹس پر کام کیا۔ ایک ٹیم نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، سری نگر ہائی وے اور ملحقہ علاقوں کا معائنہ کیا، دوسری نے اسلام آباد ایکسپریس وے سے روات ٹی چوک تک نیٹ ورک کارکردگی دیکھی، جبکہ تیسری ٹیم نے مری روڈ، راول روڈ اور راولپنڈی کے اولڈ ایئرپورٹ کے اطراف خدمات کی جانچ کی۔

اتھارٹی کے چیئرمین نے معائنے کے دوران سامنے آنے والے مسائل پر موبائل آپریٹرز کے نمائندوں کو ضروری ہدایات جاری کیں تاکہ متعلقہ مقامات پر سروس کا معیار بہتر بنایا جا سکے۔ آپریٹرز کے نمائندوں نے بتایا کہ بعض ٹاورز پر نیٹ ورک اپ گریڈیشن کے دوران عارضی خرابی یا معیار میں کمی ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق 3G سے 4G اور بعض مقامات پر 4G سے 5G کی جانب منتقلی، نئے آلات کی تنصیب اور نئے حاصل کردہ اسپیکٹرم کی تکنیکی انضمام کاری اس عبوری مرحلے کا حصہ ہے۔

پی ٹی اے کی یہ سرگرمی صارف کے حقیقی تجربے کی بنیاد پر نیٹ ورک کی کارکردگی جانچنے کی کوشش ہے۔ فیلڈ سروے میں صرف رفتار نہیں بلکہ کال کے جڑنے، برقرار رہنے اور ڈیٹا کے عملی استعمال جیسے عوامل بھی شامل کیے گئے، جو روزمرہ صارف کے لیے سروس کے معیار کا براہ راست پیمانہ ہیں۔

ابتدائی نتائج پورے ٹوئن سٹیز کے ہر مقام یا ہر وقت کی کارکردگی کا حتمی فیصلہ نہیں ہیں، بلکہ مخصوص روٹس اور مقامات پر کیے گئے فیلڈ ٹیسٹ کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ پی ٹی اے نے آپریٹرز کو شناخت شدہ مسائل دور کرنے کی ہدایت دی ہے، جبکہ ریگولیٹری نگرانی اور مزید فیلڈ جائزے موبائل صارفین کے لیے قابلِ اعتماد وائس اور ڈیٹا خدمات یقینی بنانے میں اہم رہیں گے۔