اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان نے 2030 تک دس لاکھ مصنوعی ذہانت کے ماہرین تیار کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جسے ملک کی ڈیجیٹل معیشت مضبوط بنانے اور ٹیکنالوجی پر مبنی مصنوعات کی تیاری بڑھانے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بات پاکستان روس آئی ٹی تعاون سے متعلق صنعت کے ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
احسن اقبال کے مطابق پاکستان کو صرف انفارمیشن ٹیکنالوجی خدمات برآمد کرنے کے موجودہ ماڈل سے آگے بڑھ کر ایسی مصنوعات اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم تیار کرنے کی ضرورت ہے جو عالمی منڈیوں میں فروخت کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی اے آئی پالیسی کے تحت انسانی وسائل کی تیاری پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور ملک میں سالانہ 75 ہزار سے زیادہ گریجویٹس کی موجودگی اس مقصد کے لیے ایک بنیاد فراہم کرتی ہے۔
وزیر منصوبہ بندی نے بتایا کہ سات نئے مصنوعی ذہانت مراکز قائم کرنے کا منصوبہ ہے جن کے ذریعے تحقیق، مہارتوں کی تربیت، اسٹارٹ اپس اور صنعت کے درمیان رابطہ بڑھایا جائے گا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اگر تحقیقی اداروں اور کاروباری شعبے کے درمیان عملی روابط مضبوط ہوں تو مصنوعی ذہانت کے استعمال کو محض تعلیمی سرگرمی تک محدود رکھنے کے بجائے صنعتی اور تجارتی حل میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان روس آئی ٹی تعاون کے تناظر میں احسن اقبال نے مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی شراکت داری، مارکیٹ تک رسائی اور پائلٹ منصوبوں پر زور دیا۔ ان کے مطابق پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ اور پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن کی حالیہ کاروباری ملاقاتوں میں پانچ روسی کمپنیوں نے گیارہ پاکستانی اداروں کے ساتھ 16 ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ اگلا مرحلہ ان رابطوں کو قابل عمل تجارتی معاہدوں میں تبدیل کرنا ہونا چاہیے۔
ممکنہ تعاون کے شعبوں میں صنعتی آٹومیشن اور انٹرپرائز سافٹ ویئر، زراعت کے لیے ڈیجیٹل سپلائی چین، محفوظ تجارتی نظام، مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور سائبر سکیورٹی شامل ہیں۔ وزیر کے مطابق روس کی سائنسی اور انجینئرنگ صلاحیت اور پاکستان کے انجینئرنگ ٹیلنٹ اور بین الاقوامی ٹیکنالوجی خدمات کے تجربے میں باہمی تکمیل کی گنجائش موجود ہے۔
احسن اقبال نے ای پاکستان کو قومی اقتصادی تبدیلی کے منصوبے کے پانچ بنیادی ستونوں میں شمار کیا اور اسے 2035 تک پاکستان کو ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کے حکومتی ہدف سے جوڑا۔ تاہم دس لاکھ اے آئی ماہرین کی تیاری اور نئے مراکز کے قیام کے اہداف مستقبل کی پالیسی ترجیحات ہیں؛ ان کی کامیابی تربیتی معیار، مالی وسائل، صنعت کی طلب، تحقیق و ترقی اور روزگار کے حقیقی مواقع پیدا ہونے پر منحصر ہوگی۔
