کراچی: سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن (SHEC) نے صوبے کی سرکاری اور نجی جامعات کے طلبہ کا ریکارڈ ایک مرکزی نظام میں جمع کرنے کے لیے ’روشن سندھ پاکستان‘ پورٹل شروع کر دیا ہے۔ ڈان کی 6 نومبر کی رپورٹ کے مطابق کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ صوبے میں جامعات کے طلبہ کے ریکارڈ کو مرکزی سطح پر برقرار رکھنے کے لیے پہلا مربوط پورٹل ہے اور اس کا مقصد اعلیٰ تعلیم سے متعلق ڈیٹا کو زیادہ منظم، قابلِ تصدیق اور بروقت بنانا ہے۔

حکام کے مطابق ہر یونیورسٹی کو پورٹل پر الگ اکاؤنٹ فراہم کیا جائے گا، جس کے ذریعے ادارے اپنے طلبہ کا ڈیٹا اپ لوڈ کر سکیں گے۔ جامعات ایکسل ٹیمپلیٹ استعمال کرتے ہوئے ایک وقت میں 60 ہزار تک طلبہ کے ریکارڈ جمع کرا سکیں گی۔ نظام اپ لوڈ کیے گئے ڈیٹا کی خودکار جانچ کرے گا، دہری یا ڈپلیکیٹ انٹریز کو روکے گا اور غلطیوں یا ڈیٹا کی کیفیت سے متعلق تفصیلی رپورٹس تیار کرے گا۔

سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مطابق پورٹل میں رسائی کو محفوظ رکھنے کے انتظامات کیے گئے ہیں اور ہر ڈیٹا اپ لوڈ کا مکمل آڈٹ ٹریل محفوظ ہوگا۔ اس سے یہ معلوم کیا جا سکے گا کہ کس ادارے نے کب اور کیا معلومات نظام میں شامل یا اپ ڈیٹ کیں۔ اس انتظام کا مقصد ڈیٹا مینجمنٹ میں جواب دہی بڑھانا اور مختلف جامعات سے موصول ہونے والی معلومات کو ایک ہی معیار کے تحت مرتب کرنا ہے۔

کمیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ صوبے بھر کی جامعات کا تازہ اور قابلِ اعتماد ریکارڈ ایک جگہ دستیاب ہونے سے داخلوں کے رجحانات کا جائزہ لینے، اعلیٰ تعلیم کی منصوبہ بندی اور معیار کی نگرانی میں مدد ملے گی۔ اب تک مختلف اداروں سے مختلف فارمیٹس میں ڈیٹا طلب کرنے کی ضرورت پڑتی تھی، جبکہ مرکزی پورٹل کے ذریعے یہ عمل زیادہ یکساں اور تیز ہونے کی توقع ہے۔

جامعات کے لیے بھی اس نظام کا عملی فائدہ یہ بتایا گیا ہے کہ انہیں بار بار الگ فارمیٹس میں ریکارڈ تیار کرکے کمیشن کو بھیجنے کی ضرورت کم ہوگی۔ خودکار validation سے اندراج کی غلطیوں اور ایک ہی طالب علم کے بار بار شامل ہونے کے امکانات کم کیے جا سکتے ہیں، جبکہ آڈٹ ٹریل سے ریکارڈ میں ہونے والی تبدیلیوں کی نگرانی ممکن ہوگی۔

پورٹل کا آغاز اعلیٰ تعلیم کے انتظامی ڈیٹا کو ڈیجیٹل شکل دینے کی سمت ایک عملی قدم ہے، تاہم اس کی طویل مدتی افادیت کا انحصار جامعات کی باقاعدہ شرکت، ریکارڈ کی درستگی، بروقت اپ ڈیٹس اور ڈیٹا سکیورٹی کے مؤثر نفاذ پر ہوگا۔ فی الحال SHEC نے مرکزی نظام متعارف کرا دیا ہے؛ اس کے نتیجے میں پالیسی سازی، داخلہ رجحانات اور معیار کی نگرانی میں کتنی بہتری آتی ہے، اس کا اندازہ استعمال کے بعد دستیاب ڈیٹا سے ہوگا۔