کراچی میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے PECHS میں شاہراہ فیصل کے قریب قائم ایک کال سینٹر کے خلاف کارروائی کے بعد 273 افراد کی گرفتاری کی تفصیلات جاری کی ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق NCCIA کے ایڈیشنل ڈائریکٹر شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس میں کہا کہ گرفتار افراد میں 100 سے زیادہ خواتین اور 42 کم عمر لڑکے اور لڑکیاں شامل ہیں۔ ایجنسی کا مؤقف ہے کہ مذکورہ مرکز ایک مبینہ سائبر فراڈ نیٹ ورک سے منسلک تھا۔
NCCIA کے مطابق کارروائی کے دوران 3,390 لیپ ٹاپ، 152 موبائل فون اور چار CPUs قبضے میں لیے گئے۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ ضبط شدہ کمپیوٹرز کے فرانزک معائنے میں بیرون ملک موجود افراد اور بعض مرچنٹس کے ممکنہ روابط کے شواہد سامنے آئے ہیں، جبکہ مختلف ناموں سے رجسٹرڈ متعدد یوزر آئی ڈیز بھی استعمال ہوتی پائی گئیں۔ یہ تمام نکات تحقیقاتی ادارے کے دعوے ہیں اور ملزمان کے خلاف الزامات کا حتمی فیصلہ عدالت میں شواہد کی بنیاد پر ہوگا۔
ایجنسی کا الزام ہے کہ غیر قانونی کال سینٹرز شہریوں کا ذاتی ڈیٹا حاصل کرکے اسے مختلف فراڈ اسکیموں میں استعمال کرتے تھے۔ NCCIA عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ کراچی میں تقریباً 350 کال سینٹرز اس نوعیت کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور تازہ کارروائی کا ہدف بننے والا مرکز شہر کے بڑے مبینہ اسکیم مراکز میں شامل تھا۔ اس دعوے کی آزادانہ عدالتی توثیق ابھی سامنے نہیں آئی۔
مقدمے میں ایک عدالتی مجسٹریٹ نے نو اہم ملزمان کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر NCCIA کے حوالے کیا۔ تحقیقاتی افسر نے عدالت کو بتایا کہ تمام 273 گرفتار افراد کو اسی عمارت میں رکھا گیا تھا جسے سندھ کے محکمہ داخلہ نے نوٹیفکیشن کے ذریعے سب جیل قرار دیا۔ عدالت نے خواتین اور 18 سال سے کم عمر ملزمان کو پانچ ہزار روپے فی کس کے ضمانتی مچلکوں پر رہا کرنے کا حکم دیا، جبکہ باقی ملزمان کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کی ہدایت کی گئی۔
دوسری جانب گرفتار افراد کے رشتہ داروں اور وکلا نے حراست کے طریقہ کار، FIR تک رسائی اور نابالغ ملازمین کی موجودگی سے متعلق سوالات اٹھائے ہیں۔ دفاعی مؤقف بھی عدالتی عمل کا حصہ ہے۔ اس مرحلے پر گرفتاری یا ریمانڈ کسی شخص کے جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں؛ تحقیقات، فرانزک مواد اور عدالتی سماعت کے بعد ہی انفرادی ذمہ داری کا تعین ہوگا۔
