اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک میں ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات کی تردید کر دی ہے۔ اتھارٹی کے مطابق پابندی کا دعویٰ کرنے والا نوٹیفکیشن جعلی ہے اور پی ٹی اے نے ایسا کوئی حکم جاری نہیں کیا۔
پی ٹی اے نے اپنے سرکاری سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ شہری غیر مصدقہ مواد پر انحصار نہ کریں اور ایسی معلومات کو آگے پھیلانے سے گریز کریں۔ اتھارٹی نے عوام کو ہدایت کی کہ ٹیلی کمیونیکیشن اور آن لائن پلیٹ فارمز سے متعلق فیصلوں کی تصدیق صرف پی ٹی اے کی سرکاری ویب سائٹ اور تصدیق شدہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے کی جائے۔
وضاحت اس وقت سامنے آئی جب ایک مبینہ سرکاری نوٹیفکیشن مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کیا جانے لگا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان میں ٹک ٹاک کی رسائی بند کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ پی ٹی اے نے اس دستاویز کی صداقت مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس نوعیت کا کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔ اس لیے موجودہ صورتحال میں ٹک ٹاک پر نئی پابندی کی خبر درست نہیں ہے۔
پاکستان میں ٹک ٹاک ماضی میں مواد سے متعلق شکایات کے باعث عارضی پابندیوں کا سامنا کر چکا ہے۔ اکتوبر 2020 میں بھی پلیٹ فارم پر پابندی لگائی گئی تھی جسے بعد میں کمپنی کی جانب سے قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے اکاؤنٹس اور مواد کے خلاف اقدامات کی یقین دہانی کے بعد اٹھا لیا گیا تھا۔ ماضی کے ان فیصلوں کی وجہ سے نئی جعلی اطلاع نے تیزی سے توجہ حاصل کی، تاہم موجودہ معاملے میں ریگولیٹر نے براہ راست تردید جاری کی ہے۔
پی ٹی اے کی وضاحت ڈیجیٹل دور میں جعلی سرکاری دستاویزات اور غیر مصدقہ اعلانات کی تصدیق کی اہمیت بھی اجاگر کرتی ہے۔ کسی آن لائن پلیٹ فارم کی بندش یا رسائی میں تبدیلی لاکھوں صارفین، کاروبار اور مواد تخلیق کرنے والوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے، اس لیے ایسے دعوؤں کی سرکاری ذرائع سے جانچ ضروری ہے۔ فی الحال پی ٹی اے کے بیان کے مطابق ٹک ٹاک پر پابندی کا کوئی نیا نوٹیفکیشن موجود نہیں اور گردش کرنے والی دستاویز کو مستند نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

