واشنگٹن: ناسا کی نیل گہریلز سوئفٹ آبزرویٹری، جس نے دو دہائیوں سے زیادہ عرصے تک کائنات کے طاقتور گاما رے دھماکوں اور دیگر فلکی مظاہر کا مطالعہ کیا، بدھ کو زمین کی فضا میں دوبارہ داخل ہو کر جل گئی۔ رائٹرز کے مطابق تقریباً 1,452 کلوگرام وزنی سیٹلائٹ کا دوبارہ داخلہ انڈونیشیا کے شمالی سماٹرا صوبے کے اوپر ہوا، جس کی تصدیق امریکی اسپیس فورس نے کی۔
ناسا کے مطابق سوئفٹ نے تقریباً 22 گنا رفتارِ صوت سے بالائی فضا میں داخل ہونا شروع کیا۔ شدید رگڑ اور حرارت کے باعث سیٹلائٹ کا بیشتر حصہ زمین کی سطح تک پہنچنے سے پہلے جل جانے کی توقع تھی۔ خلائی ادارے نے کہا کہ بعض چھوٹے ٹکڑے ممکنہ طور پر فضا سے گزر سکتے تھے، تاہم فوری طور پر زمین پر کسی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ امریکی اسپیس فورس نے دوبارہ داخلے سے پہلے آبادی کو نقصان پہنچنے کا مجموعی خطرہ انتہائی کم قرار دیا تھا۔
تقریباً 500 ملین ڈالر لاگت کی سوئفٹ آبزرویٹری کو بنیادی طور پر گاما رے برسٹس کا مطالعہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ یہ کائنات میں معلوم انتہائی طاقتور توانائی کے دھماکوں میں شمار ہوتے ہیں۔ 2004 میں لانچ ہونے کے بعد سوئفٹ نے سپرنووا دھماکوں، ستاروں کو چیرنے والے بلیک ہولز، ایکس رے فلیئرز، سیارچوں اور دمدار ستاروں سمیت متعدد مظاہر کا مشاہدہ کیا اور اس کے ڈیٹا نے ہزاروں سائنسی تحقیقی مقالات میں حصہ ڈالا۔
ناسا نے 20 اکتوبر کو سوئفٹ کے سائنسی مشاہدات ختم کر دیے تھے کیونکہ اس کا مدار اتنا کم ہو چکا تھا کہ بڑھتی ہوئی فضائی رگڑ کے باعث دوربینوں کو اہداف پر مستحکم رکھنا مشکل ہو گیا تھا۔ یہ مشن اصل میں صرف دو سال کی بنیادی مدت کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، مگر اس نے بیس سال سے زیادہ سائنسی کام جاری رکھا۔
سوئفٹ کے پاس اپنا مستقل پروپلشن نظام نہیں تھا۔ ناسا اور ایریزونا کی کمپنی Katalyst نے جولائی میں LINK نامی خصوصی ریسکیو خلائی گاڑی بھیجی تھی جس کا مقصد آبزرویٹری سے جڑ کر اسے بلند اور زیادہ پائیدار مدار میں لے جانا تھا۔ تاہم LINK خلاء میں پہنچنے کے بعد بے قابو گردش کا شکار ہو گیا اور اگست کے وسط تک مشن منتظمین نے بچاؤ کی کوشش ترک کر دی۔ سوئفٹ کا اختتام ایک طویل مشن کا خاتمہ ہے، لیکن ناسا کے مطابق اس کا وسیع سائنسی ڈیٹا مستقبل کی فلکیاتی تحقیق میں استعمال ہوتا رہے گا۔

