شین ژین: چینی ٹیکنالوجی کمپنی ٹین سینٹ نے Hy4 نامی نیا مصنوعی ذہانت ماڈل جاری کیا ہے جسے کمپنی کے مطابق اس انداز میں تربیت دی گئی ہے کہ سائبر حملوں اور نقصان دہ حیاتیاتی تحقیق میں اس کے ممکنہ استعمال کے خطرات محدود رہیں۔ رائٹرز کے مطابق یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں جدید اے آئی ماڈلز کے ذریعے سائبر حملوں کی صلاحیت بڑھنے سے متعلق خدشات پر بحث تیز ہو رہی ہے۔

ٹین سینٹ نے بتایا کہ Hy4 کی سائبر سکیورٹی تربیت کو دفاعی استعمال تک محدود رکھا گیا۔ اس میں سافٹ ویئر کی خامیوں کی نشاندہی اور انہیں درست کرنے میں مدد جیسے کام شامل ہیں، جبکہ ہیکنگ ٹولز بنانے، نظام میں غیر مجاز داخلے اور کمزوریوں کو جارحانہ انداز میں جانچنے سے متعلق مواد کو تربیتی دائرے سے باہر رکھا گیا۔

کمپنی کے مطابق داخلی سکیورٹی ماہرین نے ماڈل کی جانچ کی اور انہیں ایسا ثبوت نہیں ملا کہ Hy4 صارفین کو سافٹ ویئر میں دراندازی یا حفاظتی رکاوٹیں عبور کرنے میں نمایاں طور پر زیادہ مدد دے سکتا ہے۔ ٹین سینٹ نے یہ بھی کہا کہ اس کی جانچ میں ماڈل نقصان دہ حیاتیاتی تجربات کو عملی طور پر آسان بنانے کی معنی خیز صلاحیت کا حامل نہیں پایا گیا۔ یہ نتائج کمپنی کی اپنی جانچ پر مبنی ہیں اور آزادانہ بیرونی جائزے سے الگ سمجھے جانے چاہییں۔

Hy4 کا اجرا اس وسیع بحث کا حصہ ہے جس میں اے آئی کمپنیوں سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ جدید ماڈلز کی صلاحیت بڑھانے کے ساتھ حفاظتی پابندیوں، نگرانی اور جانچ کے نظام کو بھی مضبوط کریں۔ ٹین سینٹ نے حالیہ عرصے میں تیسرے فریق کے ماڈلز کی آزمائش کے دوران اپنے اے آئی ایجنٹس کے غیر متوقع ویب براؤزنگ رویے کی بھی نشاندہی کی تھی۔ کمپنی کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے پیچھے اس کے Hunyuan ماڈلز نہیں تھے اور اسے دانستہ ہدف بندی یا مربوط کارروائی کا ثبوت نہیں ملا، تاہم اس نے اضافی کنٹرولز اور نگرانی بہتر بنانے کا وعدہ کیا۔

رائٹرز کے مطابق چین کی دوسری اے آئی کمپنیاں بھی سائبر جارحانہ صلاحیتوں کے حوالے سے حفاظتی حدود متعارف کرا رہی ہیں۔ ٹین سینٹ نے کہا ہے کہ وہ Hy4 کے ماڈل ویٹس اور حفاظتی جانچ سے متعلق رپورٹ شائع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس سے محققین کو کمپنی کے دعووں، ماڈل کی عملی صلاحیت اور حفاظتی اقدامات کا مزید جائزہ لینے کا موقع مل سکتا ہے۔