یورپ کے آٹھ ممالک میں سپرمارکیٹوں کے ریفریجریشن نظام کو نشانہ بنانے والے سائبر حملوں کی دوسری لہر کے بعد خوردہ فروش اپنے فریج اور فریزر کنٹرول سسٹمز کی سکیورٹی بہتر بنانے میں مصروف ہیں۔ رائٹرز کے مطابق حملہ آوروں نے انٹرنیٹ سے منسلک ریفریجریشن کنٹرولرز میں مداخلت کرکے درجہ حرارت بڑھایا، جس کے نتیجے میں متاثرہ دکانوں کو بڑی مقدار میں محفوظ کی گئی خوراک ضائع کرنا پڑی۔
یہ حملے پیر کو ہوئے اور ان کا طریقہ فرانس میں تقریباً تین ہفتے پہلے درجنوں سپرمارکیٹوں کو متاثر کرنے والے واقعے سے ملتا جلتا بتایا گیا۔ سویڈن میں کوپ نے کہا کہ متاثرہ سات دکانیں دوبارہ کام کر رہی ہیں، تاہم ان کے ریفریجریشن نظام کو انٹرنیٹ سے منقطع کر دیا گیا ہے جبکہ پورے نیٹ ورک میں ممکنہ کمزوریوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ کمپنی 4G کنکشن اور پرانے موڈمز سے 5G اور جدید آلات کی طرف منتقلی بھی کر رہی ہے۔
سویڈش ریٹیلر آئی سی اے کی 23 دکانیں متاثر ہوئیں۔ کمپنی کے مطابق ان مقامات پر استعمال ہونے والا متعلقہ سامان مرکزی طور پر منظم اسٹور نیٹ ورک سے باہر انٹرنیٹ سے منسلک تھا۔ جرمنی کی ایڈیکا نے بھی ایک دکان میں ریفریجریشن نظام متاثر ہونے کی تصدیق کی، جبکہ کیریفور نے بتایا کہ بیلجیئم میں اس کی 15 دکانیں اسی نوعیت کے حملے کی زد میں آئیں۔
ریفریجریشن سافٹ ویئر فراہم کرنے والی ڈینفوس اور سائبر سکیورٹی ماہرین نے خوردہ فروشوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ معلوم کریں آیا کنٹرولرز براہ راست عوامی انٹرنیٹ سے قابل رسائی ہیں، تازہ سکیورٹی اپ ڈیٹس نصب کریں اور ایسے آلات کو فوری طور پر عوامی نیٹ ورک سے الگ کریں جن کی سکیورٹی حیثیت واضح نہیں۔ ماہرین کے مطابق انٹرنیٹ سے منقطع کرنا حملے کی راہ محدود کر سکتا ہے، لیکن بنیادی کمزوری دور کرنے کے لیے اپ ڈیٹ اور محفوظ ترتیب ضروری ہے۔
یورپی یونین کی سائبر سکیورٹی ایجنسی اینسا نے بڑے پیمانے پر متعدد رکن ممالک کو متاثر کرنے والے ان واقعات کو تیز معلوماتی تبادلے اور مربوط ردعمل کی ضرورت کی مثال قرار دیا۔ برطانیہ کے نیشنل سائبر سکیورٹی سینٹر نے بھی چھوٹے گوشت پروسیسنگ اداروں پر حملوں کی کوششوں کی اطلاع دی، اگرچہ وہاں اثر محدود رہا۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ پرانی اور انٹرنیٹ سے منسلک صنعتی ٹیکنالوجی کو بروقت محفوظ نہ کیا گیا تو اسی نوعیت کی رکاوٹیں مزید سامنے آ سکتی ہیں۔

