کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنے انوویشن ہب کے تعاون کے فریم ورک کے تحت موجالوپ کنٹری ایکسیلیریٹر پروگرام فار پاکستان کا آغاز کر دیا ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق یہ پروگرام موجالوپ فاؤنڈیشن کے اشتراک سے چلایا جائے گا اور اس کا مقصد ملک میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق مقامی مہارت، ادارہ جاتی استعداد اور فِن ٹیک شعبے کے باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
یہ 16 ہفتوں کا پروگرام نومبر 2026 سے فروری 2027 تک جاری رہے گا۔ اس میں خود رفتار آن لائن سیکھنے کے ساتھ ماہرین کی زیرِ قیادت تکنیکی نشستیں شامل ہوں گی۔ پروگرام خاص طور پر مقامی سسٹم امپلی مینٹرز، ڈیجیٹل مالیاتی خدمات فراہم کرنے والے اداروں اور پیمنٹ ہب آپریٹرز کے لیے تیار کیا گیا ہے تاکہ وہ جدید اور باہم مربوط ادائیگی نظاموں کے ڈیزائن، نفاذ اور انتظام سے متعلق عملی صلاحیت حاصل کر سکیں۔
موجالوپ فاؤنڈیشن ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے جو اوپن سورس موجالوپ پیمنٹ سافٹ ویئر کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ فاؤنڈیشن پاکستان کے پروگرام میں نصاب اور پروگرام ڈیزائن کے ساتھ تکنیکی تربیت فراہم کرے گی۔ شرکا کو موجالوپ کی عالمی تکنیکی برادری سے بھی منسلک کیا جائے گا، جس سے پروگرام مکمل ہونے کے بعد بھی سیکھنے اور بین الاقوامی تجربات سے فائدہ اٹھانے کا سلسلہ جاری رہ سکے گا۔
اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر سلیم اللہ نے افتتاحی تقریب میں کہا کہ یہ اقدام پاکستان کے مالیاتی ٹیکنالوجی ماحولیاتی نظام کو مضبوط کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ان کے مطابق مقامی ٹیلنٹ کو عالمی مہارت سے جوڑنے سے اداروں کو نئے خیالات کو عملی ادائیگی حل میں تبدیل کرنے اور ڈیجیٹل مالیاتی خدمات تک رسائی بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔
یہ پروگرام اسٹیٹ بینک کے انوویشن ہب کے نئے Collaboration Framework کی پہلی عملی سرگرمی ہے۔ انوویشن ہب SBP Vision 2028 کے تحت قائم کیا گیا ہے اور اس کا مقصد مالیاتی ٹیکنالوجی شعبے کے ساتھ منظم رابطہ، استعداد سازی، علم کے تبادلے اور ماحولیاتی نظام کی ترقی کے لیے ایک غیر امتیازی اور ٹیکنالوجی نیوٹرل پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔ کراچی میں ہونے والی افتتاحی تقریب میں مرکزی بینک، موجالوپ فاؤنڈیشن، بینکوں، مالیاتی اداروں، ٹیکنالوجی کمپنیوں، فِن ٹیکس اور تعلیمی شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی۔

