اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے الیکٹرانک ٹرانزیکشنز ترمیمی بل 2026 پر غور ایک بار پھر مؤخر کردیا ہے۔ کمیٹی کو وزارت قانون و انصاف کی جانب سے بتایا گیا کہ مجوزہ ترامیم پر پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ مشاورت جاری ہے اور اتفاق رائے تک پہنچنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔

قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین امین الحق کی صدارت میں ہوا۔ وزارت قانون کے نمائندے نے ارکان کو بتایا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ بات چیت پیش رفت کے مرحلے میں ہے اور جلد اتفاق رائے کی توقع کی جا رہی ہے۔ اس کے بعد کمیٹی نے بل کو آئندہ اجلاس تک مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا۔ دستیاب رپورٹ میں مجوزہ ترامیم کی مکمل شق وار تفصیل بیان نہیں کی گئی، اس لیے اختلاف کے مخصوص قانونی نکات کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

اجلاس میں ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس کے معیار پر بھی ارکان نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ کمیٹی ارکان کے مطابق تقریباً دو سال سے پارلیمانی سطح پر اس مسئلے کا جائزہ لیے جانے کے باوجود صارفین کو نمایاں بہتری محسوس نہیں ہوئی۔ ارکان نے کراچی اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں بھی غیر مستحکم کنیکٹیویٹی، سگنل ڈراپ ہونے اور واٹس ایپ کالز تک متاثر ہونے کی شکایات کا ذکر کیا، جبکہ چھوٹے شہروں اور دور دراز علاقوں کی صورتحال کو مزید خراب قرار دیا گیا۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے چیئرمین میجر جنرل ریٹائرڈ حفیظ الرحمٰن نے کمیٹی کو بتایا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران ناقص سروس کوالٹی پر ٹیلی کام آپریٹرز کو پانچ شوکاز نوٹس جاری کیے گئے۔ ان کے مطابق جرمانوں کی وصولی عدالتی حکم امتناع کے باعث رکی ہوئی ہے۔ انہوں نے دیہی علاقوں میں طویل بجلی بندش کو بھی سروس میں خلل کی ایک بڑی وجہ قرار دیا اور کہا کہ بعض مقامات پر بجلی کی بندش 12 سے 16 گھنٹے تک رہتی ہے۔

5G کے حوالے سے پی ٹی اے چیئرمین نے بتایا کہ کراچی میں تقریباً 70 فیصد سروس رول آؤٹ ہوچکا ہے اور لگ بھگ 2,300 ٹیلی کام ٹاورز کو نئی ٹیکنالوجی کے لیے اپ گریڈ کیا گیا ہے۔ یہ اعداد پی ٹی اے کی کمیٹی کو دی گئی بریفنگ پر مبنی ہیں۔

پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی نے بھی نیشنل ڈیجیٹل ماسٹر پلان پر بریفنگ دی، جس کا مقصد ڈیجیٹل معاشرے، معیشت اور حکمرانی کو فروغ دینا بتایا گیا۔ اتھارٹی نے اندازہ پیش کیا کہ ڈیجیٹل تبدیلی اگلے پانچ برس میں ملکی مجموعی پیداوار میں 60 سے 80 ارب ڈالر تک اضافہ کر سکتی ہے۔ یہ ایک تخمینہ ہے، حتمی معاشی نتیجہ نہیں، اور اس کا حصول پالیسیوں، سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر اور عملدرآمد سے مشروط ہوگا۔