حیدرآباد: سندھ پبلک سروس کمیشن (ایس پی ایس سی) نے اپنے تمام تحریری امتحانات میں امیدواروں کی الیکٹرانک حاضری یقینی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیشن کے مطابق اس اقدام کا مقصد امیدواروں کی شناخت کی ڈیجیٹل جانچ، امتحانی عمل میں شفافیت اور کسی دوسرے شخص کی جگہ امتحان دینے جیسے واقعات کی روک تھام ہے۔
ایس پی ایس سی انتظامیہ، جس کی سربراہی رضوان احمد کر رہے ہیں، نے اعلان کیا کہ امیدواروں کے کوائف کو امتحانی مراکز پر ڈیجیٹل طریقے سے جانچا جائے گا۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ روایتی حاضری کے مقابلے میں الیکٹرانک تصدیق شناخت کے عمل کو زیادہ محفوظ اور قابلِ اعتماد بنا سکتی ہے اور بھرتی کے امتحانات میں میرٹ کے تحفظ میں مدد دے گی۔
کمیشن کے ترجمان کے مطابق اس نظام کو حال ہی میں منعقد ہونے والے ریونیو کوالیفائنگ محکمانہ امتحانات میں آزمائشی طور پر استعمال کیا گیا تھا۔ اس تجربے کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ تمام ڈسکرپٹو یا تحریری امتحانات میں یہی طریقہ اپنایا جائے۔ کمپیوٹر پر مبنی ٹیسٹ اس نئی ہدایت سے مستثنیٰ ہوں گے کیونکہ ان کا امتحانی نظام پہلے ہی الیکٹرانک حاضری سے منسلک ہے۔
ایس پی ایس سی صوبائی حکومت کے مختلف محکموں میں متعدد آسامیوں کے لیے امتحانات اور انتخابی عمل منعقد کرتا ہے، اس لیے شناخت اور حاضری کے نظام میں تبدیلی کا اثر بڑی تعداد میں امیدواروں پر پڑے گا۔ کمیشن نے اس اقدام کو امتحانی مراکز کی جدید کاری کے وسیع عمل کا حصہ قرار دیا ہے۔
اعلان میں کہا گیا کہ نئی ٹیکنالوجی کا مقصد اہل اور قابل امیدواروں کے حقوق کا تحفظ، بھرتی میں میرٹ اور مساوی مواقع کو مضبوط کرنا ہے۔ تاہم کمیشن نے اس مرحلے پر استعمال ہونے والی مخصوص بائیومیٹرک یا شناختی ٹیکنالوجی، ڈیٹا کے ذخیرے کی مدت یا رازداری کے تکنیکی ضوابط کی مکمل تفصیل جاری نہیں کی۔
الیکٹرانک حاضری کا عملی معیار اس بات سے واضح ہوگا کہ اسے مختلف اضلاع اور امتحانی مراکز میں کس یکسانیت سے نافذ کیا جاتا ہے۔ ایس پی ایس سی کے مطابق ادارہ امتحانی نظام کو جدید بنانے کا عمل جاری رکھے گا تاکہ بھرتیوں میں شفافیت اور عوامی اعتماد بہتر کیا جا سکے۔

