اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک میں ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک مبینہ نوٹیفکیشن کو جعلی اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ادارے نے ایسا کوئی حکم جاری نہیں کیا۔ پی ٹی اے کی وضاحت ایسے وقت سامنے آئی جب آن لائن پلیٹ فارمز پر ایک دستاویز کو سرکاری نوٹیفکیشن کے طور پر شیئر کیا جا رہا تھا۔
پی ٹی اے نے اپنے سرکاری بیان میں کہا کہ ٹک ٹاک کی بندش سے متعلق زیر گردش اطلاع درست نہیں اور شہری اسے آگے پھیلانے یا اس پر انحصار کرنے سے گریز کریں۔ ریگولیٹر نے عوام کو مشورہ دیا کہ ٹیلی کمیونیکیشن اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے متعلق معلومات کے لیے صرف پی ٹی اے کی سرکاری ویب سائٹ اور تصدیق شدہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے رجوع کیا جائے۔ اس وضاحت کے بعد موجودہ صورت حال میں ٹک ٹاک پر نئی ملک گیر پابندی کے دعوے کی سرکاری تصدیق نہیں ہوتی۔
پاکستان میں ٹک ٹاک کے حوالے سے ماضی میں مختلف اوقات میں پابندیاں اور عدالتی کارروائیاں ہو چکی ہیں، اس لیے نئی پابندی سے متعلق غیر مصدقہ دعویٰ تیزی سے توجہ حاصل کر سکتا تھا۔ اکتوبر 2020 میں پی ٹی اے نے نامناسب مواد سے متعلق شکایات کے پس منظر میں پہلی مرتبہ پلیٹ فارم کو عارضی طور پر بلاک کیا تھا، جو کمپنی کی یقین دہانیوں کے بعد بحال ہوا۔ 2021 میں پشاور ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ میں بھی پلیٹ فارم سے متعلق معاملات زیر سماعت رہے اور مختلف اوقات میں رسائی معطل اور بحال ہوئی۔
بعد ازاں جولائی 2021 میں پی ٹی اے نے نامناسب مواد ہٹانے کے معاملے پر ٹک ٹاک تک رسائی دوبارہ محدود کی تھی۔ اسی سال اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریگولیٹر کے اختیارات اور کسی پورے پلیٹ فارم پر عمومی پابندی کے قانونی جواز سے متعلق سوالات اٹھائے تھے۔ نومبر 2021 میں ٹک ٹاک کی جانب سے مواد کی نگرانی سے متعلق یقین دہانیوں کے بعد پابندی اٹھا لی گئی تھی۔
تازہ واقعہ کسی نئی قانونی یا انتظامی پابندی کا اعلان نہیں بلکہ ایک مبینہ جعلی دستاویز کی سرکاری تردید ہے۔ اس فرق کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے کیونکہ سوشل میڈیا پر سرکاری اداروں کے نام سے منسوب جعلی نوٹیفکیشن عوام، کاروبار اور ڈیجیٹل صارفین میں غیر ضروری ابہام پیدا کر سکتے ہیں۔ پی ٹی اے نے اسی تناظر میں مستند سرکاری ذرائع سے معلومات کی تصدیق پر زور دیا ہے۔
ڈان کی رپورٹ میں پی ٹی اے کے بیان کو بنیادی ماخذ کے طور پر نقل کیا گیا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق ریگولیٹر نے نہ صرف پابندی کے دعوے کو مسترد کیا بلکہ زیر گردش نوٹیفکیشن کو بھی غیر حقیقی قرار دیا۔ اس لیے ٹک ٹاک کی موجودہ قانونی حیثیت سے متعلق کسی تبدیلی کو اس جعلی دستاویز کی بنیاد پر اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

