لندن/واشنگٹن: روس کے ایک فوجی سیٹلائٹ کی مغربی کمرشل سیٹلائٹ کے انتہائی قریب پرواز نے خلائی سلامتی اور فوجی استعمال ہونے والے تجارتی سیٹلائٹ نیٹ ورکس کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق Cosmos 2612 نامی روسی سیٹلائٹ گزشتہ ماہ فن لینڈ کی کمپنی ICEYE کے X36 سیٹلائٹ کے قریب پہنچا، جو مغربی حکومتوں اور فوجوں، بشمول یوکرین، کو ریڈار تصاویر فراہم کرتا ہے۔

امریکی خلائی تجزیہ کار گریگ گلنگر نے اس واقعے کو ممکنہ حملے کی مشق سے مشابہ قرار دیا۔ ان کے مطابق اتنی قریب پرواز عام انٹیلی جنس جمع کرنے یا الیکٹرانک مداخلت کے لیے ضروری نہیں دکھائی دیتی اور یہ kinetic attack سے متعلق صلاحیت آزمانے کی علامت ہو سکتی ہے۔ تاہم یہ ایک ماہر کی تشریح ہے، ثابت شدہ روسی ارادہ نہیں۔ روسی وزارت دفاع نے رائٹرز کی درخواست پر فوری تبصرہ نہیں کیا۔

امریکی انڈر سیکریٹری آف اسٹیٹ تھامس ڈی نینو نے اکتوبر کے واقعے کے بعد کہا تھا کہ روسی سیٹلائٹ جان بوجھ کر ایک کمرشل سیٹلائٹ کے خطرناک حد تک قریب حرکت کر رہا تھا اور یہ رویہ مدار میں ہتھیاروں کی کارروائی سے مطابقت رکھتا ہے۔ خلائی ماہرین کے مطابق Cosmos 2612 اکتوبر کے وسط میں X36 سے تقریباً ایک کلومیٹر یا بعض تخمینوں کے مطابق اس سے بھی کم فاصلے تک پہنچا، پھر سینکڑوں کلومیٹر دور ہو گیا۔

ICEYE کی امریکی شاخ کی سربراہ این اسٹیونز نے کہا کہ X36 بدستور فعال ہے اور کمپنی کا ریڈار امیجنگ نیٹ ورک کسی ایک سیٹلائٹ میں خلل کی صورت میں بھی کام جاری رکھنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ دو متعلقہ روسی سیٹلائٹس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ اب ICEYE کے ایک دوسرے سیٹلائٹ X37 کے مداری راستے کی سمت بڑھ رہے ہیں۔

جرمنی کے خلائی کمانڈر میجر جنرل مائیکل ٹراؤٹ نے خبردار کیا کہ اس نوعیت کی قریب پروازیں معائنہ، نگرانی یا مداخلت کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں، لیکن انہوں نے واضح کیا کہ صرف ایسی maneuvering کی صلاحیت اس بات کا ثبوت نہیں کہ روس حملہ تیار کر رہا تھا۔ عوامی مداری ڈیٹا سے کسی خلائی گاڑی کا حتمی مقصد متعین کرنا ممکن نہیں۔

روس پہلے کہہ چکا ہے کہ یوکرین کی مدد کرنے والے مغربی تجارتی سیٹلائٹس جوابی کارروائی کے جائز اہداف بن سکتے ہیں۔ دوسری جانب امریکا نے بھی خلا میں عسکری صلاحیتوں کی موجودگی تسلیم کی ہے۔ تجارتی سیٹلائٹس کے دفاعی استعمال میں اضافے کے ساتھ حادثاتی ٹکراؤ، مداخلت اور جان بوجھ کر نقصان پہنچانے کے خطرات عالمی خلائی سلامتی کے اہم مسئلے بنتے جا رہے ہیں۔