اسلام آباد میں وزیر مملکت اور پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے ماسٹرکارڈ کے مشرقی عرب ڈویژن کے صدر مارک ایلیٹ سے ملاقات کی۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق بات چیت کا محور روایتی مالیاتی نظام اور ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل اثاثہ ٹیکنالوجیز کے باہمی امتزاج سے پیدا ہونے والے مواقع تھے، جن میں سرحد پار ادائیگیاں، ترسیلات زر کی کارکردگی اور مالیاتی اثاثوں کی ذمہ دارانہ ٹوکنائزیشن شامل ہیں۔

فریقین نے بلاک چین پر مبنی مالیاتی انفراسٹرکچر کے ممکنہ استعمال پر گفتگو کی اور اس امر کا جائزہ لیا کہ نئی ٹیکنالوجی بیرون ملک پاکستانیوں، فری لانسرز، چھوٹے کاروباروں اور مالیاتی اداروں کے لیے ادائیگیوں اور مالی خدمات تک رسائی میں کس طرح بہتری لا سکتی ہے۔ اعلامیے میں پاکستان کی سالانہ ترسیلات زر کا حجم 40 ارب ڈالر سے زیادہ بتایا گیا اور اسے جدید ادائیگی نظام کی معاشی اہمیت کے تناظر میں پیش کیا گیا۔

ملاقات میں سائبر سکیورٹی، مالیاتی دیانت، صارفین کے تحفظ اور مالیاتی استحکام سے متعلق عالمی پیش رفت بھی زیر بحث آئی۔ بلال بن ثاقب نے کہا کہ پاکستان کی ترجیح تکنیکی جدت کو شہریوں اور کاروبار کے لیے حقیقی معاشی قدر میں تبدیل کرنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مستقبل کے مالیاتی نظام میں روایتی مالی اداروں، ٹیکنالوجی فراہم کرنے والی کمپنیوں اور ریگولیٹرز کے درمیان تعاون بڑھتا جائے گا۔

سرکاری بیان میں کسی تجارتی معاہدے، سرمایہ کاری کی مخصوص رقم، نئی سروس کے اجرا یا ماسٹرکارڈ کے ساتھ باقاعدہ شراکت داری کی حتمی منظوری کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو پالیسی اور ادارہ جاتی سطح کی بات چیت کے طور پر بیان کرنا زیادہ درست ہے، جس میں ممکنہ تعاون کے شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کے مطابق یہ رابطہ بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مکالمے، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے اور ورچوئل اثاثوں کے لیے شفاف، محفوظ اور جدت کی گنجائش رکھنے والے ریگولیٹری ماحول کی تشکیل کی کوششوں کا حصہ ہے۔ آئندہ عملی اقدامات کی تفصیل یا ٹائم لائن اعلامیے میں جاری نہیں کی گئی۔