کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں نئے کور بینکنگ نیٹ ورک اور جدید ڈیٹا سینٹر کی تعیناتی مکمل کر لی گئی ہے، جسے ملک کے مالیاتی انفراسٹرکچر کو جدید بنانے اور ڈیجیٹل بینکاری خدمات کی حفاظت و تسلسل بہتر بنانے کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق کراچی میں اسٹیٹ بینک کے مرکزی دفتر میں منصوبے کی تکمیل کے موقع پر امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور ٹیکنالوجی شراکت داروں کے نمائندے موجود تھے۔

منصوبے کا بنیادی مقصد مرکزی بینک کے اہم ڈیجیٹل نظاموں کے لیے زیادہ قابل اعتماد، محفوظ اور جدید نیٹ ورک فراہم کرنا ہے۔ کور بینکنگ انفراسٹرکچر مالیاتی لین دین، بینکوں کے درمیان رابطوں اور مرکزی بینک کی متعدد اہم خدمات کی تکنیکی بنیاد بنتا ہے۔ نئے نظام سے ڈیٹا کی دستیابی، نیٹ ورک کی کارکردگی اور ممکنہ تکنیکی خلل کے مقابلے میں ادارے کی بحالی کی صلاحیت بہتر بنانے کی توقع کی جا رہی ہے۔

پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں اور آن لائن بینکاری کے تیزی سے پھیلاؤ کے ساتھ مالیاتی اداروں کے لیے سائبر سکیورٹی اور ڈیٹا کے تحفظ کی اہمیت بھی بڑھ گئی ہے۔ مرکزی بینک پہلے ہی راست جیسے فوری ادائیگی نظام اور دیگر ڈیجیٹل مالیاتی سہولتوں کو وسعت دے رہا ہے۔ اس پس منظر میں جدید ڈیٹا سینٹر اور کور نیٹ ورک کی تعیناتی اسٹیٹ بینک کے اندرونی تکنیکی ڈھانچے کو ان بڑھتی ضروریات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش ہے۔

تقریب میں امریکی نمائندوں نے منصوبے کو پاکستان کے مالیاتی شعبے کی ڈیجیٹل جدید کاری میں تعاون کی مثال قرار دیا۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے بھی محفوظ، مستحکم اور جدید مالیاتی نظام کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ منصوبے میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کا مقصد حساس مالیاتی معلومات کے تحفظ کے ساتھ ادارے کے آپریشنز کو زیادہ موثر اور قابل اعتماد بنانا ہے۔

ڈیٹا سینٹرز اور بنیادی نیٹ ورک کسی بھی مرکزی بینک کے لیے انتہائی اہم ہوتے ہیں کیونکہ ادائیگی نظام، ریگولیٹری معلومات اور مالیاتی اداروں سے رابطے کی متعدد خدمات انہی پر انحصار کرتی ہیں۔ کسی تکنیکی خرابی یا سائبر حملے کی صورت میں متبادل اور محفوظ انفراسٹرکچر خدمات کے تسلسل کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ اسی لیے جدید کاری کو صرف نئی مشینری کی تنصیب نہیں بلکہ مالیاتی استحکام کے وسیع تر انتظام کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

نئے نظام کی تعیناتی ایسے وقت ہوئی ہے جب حکومت اور اسٹیٹ بینک نقدی پر انحصار کم کرکے ڈیجیٹل ادائیگیوں کا دائرہ بڑھانے پر زور دے رہے ہیں۔ صارفین کے لیے اس منصوبے کا اثر براہ راست کسی نئی بینکاری مصنوعات کی شکل میں نہیں، بلکہ پس منظر میں چلنے والے مالیاتی نظام کی سلامتی، رفتار اور قابل اعتماد کارکردگی بہتر ہونے کی صورت میں سامنے آنے کی توقع ہے۔