لاہور: اسلام آباد میں سعودی عرب کے تعاون سے پاکستان کا اپنی نوعیت کا پہلا تھیم پارک قائم کرنے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے ہیں۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق معاہدے کی تقریب 25 اکتوبر کو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں ہوئی، جہاں سعودی-پاکستان بزنس کونسل کے چیئرمین شہزادہ منصور بن محمد آل سعود اور کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین سہیل اشرف نے دستاویز پر دستخط کیے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔
سرکاری خبر میں منصوبے کو اسلام آباد کے تفریحی اور شہری انفراسٹرکچر میں نئی سرمایہ کاری کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ محسن نقوی نے سعودی وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی دارالحکومت کے انفراسٹرکچر کو دنیا کے جدید شہروں کے معیار کے مطابق بہتر بنانے پر کام جاری ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آنے والے مہینوں میں سعودی عرب میں رئیل اسٹیٹ روڈ شو منعقد کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
شہزادہ منصور بن محمد آل سعود نے تقریب سے خطاب میں پاکستان، بالخصوص اسلام آباد، میں سرمایہ کاری کے مواقع کو مثبت قرار دیا۔ مفاہمتی یادداشت سرمایہ کاری تعاون کے ابتدائی فریم ورک کی نمائندگی کرتی ہے؛ اسے مکمل تعمیراتی معاہدے یا منصوبے کے فوری آغاز کے مساوی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ بڑے تفریحی منصوبوں کے لیے زمین، ڈیزائن، ماحولیاتی منظوری، مالی بندوبست اور تعمیراتی شیڈول جیسے مراحل الگ سے درکار ہوتے ہیں۔
منصوبے کے اعلان کے ساتھ اس کی ممکنہ جگہ کے بارے میں عوامی بحث بھی سامنے آئی ہے۔ بعض میڈیا رپورٹس نے ایف نائن پارک سے متعلق خدشات کا ذکر کیا، جبکہ وزیر داخلہ نے الگ طور پر کہا ہے کہ ایف نائن پارک میں درخت نہیں کاٹے جائیں گے اور نئی کنکریٹ تعمیرات نہیں کی جائیں گی۔ تاہم ریڈیو پاکستان کے تھیم پارک سے متعلق بنیادی اعلان میں حتمی مقام کی مکمل تفصیل موجود نہیں، اس لیے کسی مخصوص جگہ کو قطعی طور پر منصوبے کا مقام قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
تصدیق شدہ پیش رفت اس وقت مفاہمتی یادداشت پر دستخط اور سعودی سرمایہ کاری دلچسپی تک محدود ہے۔ منصوبے کی اصل نوعیت، رقبہ، سرمایہ کاری کی مالیت، تفریحی سہولیات، ٹکٹنگ ماڈل اور تکمیل کی تاریخ بعد کے تفصیلی معاہدوں سے واضح ہوگی۔ اگر منصوبہ عملی مرحلے میں داخل ہوتا ہے تو شہری منصوبہ بندی، ٹریفک، ماحول اور عوامی رسائی سے متعلق منظوریوں کی تفصیل بھی اس کی مجموعی افادیت کے جائزے میں اہم ہوگی۔
