کراچی: ایران سے زمینی راستے کے ذریعے ایل پی جی کی فراہمی میں خلل کے بعد پاکستان نے سمندری درآمدات تیز کر دی ہیں اور ایک ہفتے کے دوران کراچی کی بندرگاہوں پر 11,600 ٹن سے زیادہ مائع پیٹرولیم گیس پہنچی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک کے مختلف علاقوں میں ایل پی جی کی خوردہ قیمتوں میں نمایاں اضافہ رپورٹ کیا جا رہا ہے۔

پورٹ قاسم اتھارٹی کے مطابق 24 اکتوبر کو بحرین سے 4,000 میٹرک ٹن ایل پی جی لے کر آنے والا جہاز ییلو اسٹون پورٹ قاسم پر لنگر انداز ہوا اور مقررہ طریقہ کار کے تحت کارگو ہینڈلنگ شروع کی گئی۔ اس سے قبل 72 گھنٹوں کے دوران مزید دو جہاز پہنچے تھے۔ پی جی سی یانیوس 4,520 ٹن ایل پی جی لے کر سوئی سدرن گیس کمپنی کے ٹرمینل پر پہنچا، جبکہ الیسا 1 نے 3,083 ٹن کارگو کی کارروائی مکمل کی۔

سمندری درآمدات میں یہ اضافہ پاکستان اور ایران کے درمیان گبد-ریمدان سرحدی گزرگاہ پر ایل پی جی باؤزرز کی نقل و حرکت معطل ہونے کے بعد سامنے آیا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق زمینی سپلائی متاثر ہونے سے مقامی منڈی میں دباؤ بڑھا۔ لاہور میں بعض صارفین نے 570 روپے فی کلو تک قیمت ادا کرنے کی اطلاع دی، جبکہ اوگرا کی اکتوبر کے لیے سرکاری قیمت 279 روپے فی کلو بتائی گئی ہے۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں بعض مقامات پر 500 سے 600 روپے فی کلو کے نرخ بھی رپورٹ ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایل پی جی کی روزانہ کھپت تقریباً 4,000 سے 4,500 ٹن ہے، جبکہ مقامی پیداوار 2,000 سے 2,500 ٹن روزانہ کے قریب بتائی جاتی ہے۔ سردیوں کے عروج پر طلب 6,000 سے 7,000 ٹن یومیہ تک پہنچ سکتی ہے، کیونکہ بہت سے گھرانے کھانا پکانے اور حرارت کے لیے ایل پی جی پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔

دوسری جانب گبد-ریمدان سرحدی گزرگاہ پر تجارتی کارگو کی نقل و حرکت دوبارہ شروع ہونے کی اطلاع بھی سامنے آئی ہے۔ گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر میر نوید جان کلمتی کے مطابق تجارتی سرگرمیاں ہفتے کی صبح بحال ہوئیں۔ پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے بھی کہا کہ ایران کی ہمسایہ ممالک کے ساتھ سرحدیں تجارت کے لیے کھلی ہیں۔

اضافی سمندری کارگو سپلائی کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، تاہم صارفین کو عملی ریلیف کا انحصار درآمدات کے تسلسل، سرحد پار ایل پی جی کی باقاعدہ بحالی اور مقامی منڈی میں سرکاری نرخوں کے نفاذ پر ہوگا۔