اسلام آباد: انٹرنیشنل سلک روٹ فیسٹیول پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس میں شروع ہوا، جس میں سفارت کاروں، سرکاری حکام، سیاحت کے نمائندوں، کاروباری افراد، نوجوانوں، نمائش کنندگان اور بین الاقوامی وفود نے شرکت کی۔ تقریب کا مقصد پاکستان کے ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے کے ساتھ سیاحت، تجارت اور ثقافتی تبادلے کے ذریعے علاقائی تعاون کو فروغ دینا ہے۔

فیسٹیول سلک روٹ انٹرپرائزز نے پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن، وزارت بین الصوبائی رابطہ، صوبائی سیاحتی محکموں اور نجی شعبے کے شراکت داروں کے تعاون سے منعقد کیا۔ منتظمین کے مطابق کوشش یہ ہے کہ قدیم شاہراہ ریشم کی تاریخی روایت کو جدید سیاحتی، تجارتی اور عوامی روابط کے لیے ایک عملی پلیٹ فارم میں تبدیل کیا جائے۔

افتتاحی تقریب میں وزیراعظم کے مشیر برائے سیاحت سردار یاسر الیاس خان نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ ازبکستان، سری لنکا، پرتگال، تاجکستان اور بیلاروس کے سفارتی نمائندے بھی موجود تھے، جبکہ پاکستان کے سرکاری سیاحتی اداروں، نجی کاروباری شعبے اور بیرون ملک سے آنے والے مندوبین نے بھی پروگرام میں حصہ لیا۔

سردار یاسر الیاس خان نے پاکستان کے سیاحتی، تجارتی اور سرمایہ کاری امکانات کو علاقائی شراکت داری سے جوڑنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے سلک روٹ خطے کے فروغ کے لیے ایک مخصوص ٹاسک فورس قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی، تاکہ سرکاری ادارے، صوبائی سیاحتی محکمے، نجی شعبہ اور بین الاقوامی شراکت دار مربوط انداز میں علاقائی رابطہ کاری اور پائیدار سیاحت کے منصوبوں پر کام کر سکیں۔

پی ٹی ڈی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر آفتاب الرحمٰن رانا نے بھی پاکستان کے متنوع سیاحتی مقامات، ثقافتی ورثے اور تاریخی علاقائی روابط کو عالمی سطح پر بہتر انداز میں پیش کرنے پر زور دیا۔ فیسٹیول کو ثقافتی سفارت کاری، کاروباری نیٹ ورکنگ، سرمایہ کاری کے امکانات اور عوامی سطح کے بین الاقوامی رابطوں کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

قدیم شاہراہ ریشم چین، جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور یورپ کے درمیان سامان، خیالات، فنون اور روایات کے تبادلے کا تاریخی ذریعہ رہی ہے۔ موجودہ فیسٹیول اسی پس منظر کو استعمال کرتے ہوئے جدید سیاحت اور تجارت کے لیے روابط بڑھانے کی کوشش ہے۔ تاہم کسی مخصوص نئی سرمایہ کاری یا تجارتی معاہدے کا اعلان دستیاب رپورٹ میں نہیں کیا گیا، اس لیے فیسٹیول کے عملی اقتصادی نتائج آئندہ شراکت داریوں اور منصوبوں سے واضح ہوں گے۔