اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کے بلدیاتی اور انتظامی ڈھانچے کے بارے میں جاری قانونی و سیاسی بحث کے دوران اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ (ترمیمی) آرڈیننس 2026 اپنی توسیع شدہ مدت پوری ہونے کے بعد غیر مؤثر ہو گیا ہے۔ اس پیش رفت کے ساتھ ہی وفاقی حکومت کے سامنے اسلام آباد کے مستقبل کے انتظامی ماڈل سے متعلق دو مختلف راستے موجود ہیں، جن میں ایک نسبتاً بااختیار آئی سی ٹی حکومت کے قیام جبکہ دوسرا موجودہ وفاقی و بیوروکریٹک کنٹرول کے تحت بلدیاتی نظام میں ترامیم سے متعلق ہے۔
رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے ایک ایسی نئی آئی سی ٹی حکومت کے لیے سفارشات تیار کی ہیں جسے صوبے یا خصوصی انتظامی یونٹ کی شکل دی جا سکتی ہے۔ اس تجویز میں ماسٹر پلاننگ اور امن و امان کے سوا متعدد سرکاری امور نئی حکومت کو منتقل کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ کمیٹی نے 2015 کے آئی سی ٹی ایکٹ اور 1960 کے کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس کو یکجا کرکے ایک نئے قانونی فریم ورک کی تجویز بھی دی ہے۔
دوسری جانب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے آئی سی ٹی لوکل گورنمنٹ بل 2026 کی منظوری دی ہے، جس کے تحت وفاقی حکومت کو اسلام آباد کی مقامی حکومت کو پابند ہدایات جاری کرنے کے وسیع اختیارات حاصل رہ سکتے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے اس بل کی بعض شقوں کی مخالفت کی ہے۔ پارٹی رہنما نوید قمر نے مؤقف اختیار کیا کہ بااختیار مقامی حکومت کی بات کے ساتھ ایسے اقدامات میں تضاد ہے جو منتخب بلدیاتی نمائندوں کے بجائے انتظامی کنٹرول کو مضبوط بناتے ہوں۔
احسن اقبال کے مطابق دونوں تجاویز مختلف سطحوں کے نظم و نسق سے متعلق ہیں اور حتمی طور پر یہ فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کریں گے کہ کس قانونی راستے کو ترجیح دی جائے۔ ان کی کمیٹی کی سفارشات وزیراعظم آفس کو بھیجی جانی ہیں۔ اس سے قبل صدر آصف علی زرداری نے جنوری 2026 میں مقامی حکومت کے قانون میں ترمیم کے لیے آرڈیننس جاری کیا تھا، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے طے شدہ بلدیاتی انتخابات منسوخ کر دیے تھے۔ آرڈیننس کی مدت ختم ہونے سے اب دارالحکومت کے بلدیاتی انتخابات اور نئے انتظامی نظام کے قانونی راستے کے بارے میں تازہ وضاحت کی ضرورت پیدا ہوگئی ہے۔




