اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد ماڈل جیل کی تعمیر مکمل ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کو نئی سہولت کے افتتاح کے لیے مدعو کیا جائے گا۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیر داخلہ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران منصوبے کی تکمیل اور جیل میں فراہم کی گئی جدید سہولتوں کی تفصیلات بیان کیں۔

محسن نقوی کے مطابق ماڈل جیل کو بین الاقوامی معیار کے مطابق مکمل کیا گیا ہے اور قیدیوں کی شناخت کے لیے چہرہ شناسی کی ٹیکنالوجی سمیت ملاقاتوں کے انتظام کا نظام بھی شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں جیل تقریباً 1500 قیدیوں کو رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ان قیدیوں کو نئی جیل منتقل کیا جائے گا جن کے مقدمات اسلام آباد کی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ اس اعلان سے وفاقی دارالحکومت میں قیدیوں کی تحویل اور عدالتی مقدمات سے متعلق انتظامی ڈھانچے میں ایک نئی مستقل سہولت شامل ہو گئی ہے۔ تاہم منتقلی کا عملی شیڈول، مرحلہ وار تعداد اور مکمل آپریشنل طریقہ کار سرکاری بیان میں تفصیل سے نہیں بتایا گیا۔

محسن نقوی نے منصوبے کی تکمیل میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی کوششوں کو سراہا۔ ان کے بیان کے مطابق نئی جیل میں روایتی قیدی انتظام کے ساتھ شناخت اور ملاقاتوں کے لیے ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی، جس کا مقصد انتظامی نگرانی اور ریکارڈ کے نظام کو جدید بنانا ہے۔

اسلام آباد ماڈل جیل کی تکمیل کا اعلان ایک انتظامی پیش رفت ہے۔ وزیر داخلہ نے سہولت کو بین الاقوامی معیار کے مطابق قرار دیا ہے، تاہم یہ سرکاری دعویٰ ہے اور اس رپورٹ میں کسی آزاد معائنہ یا معیار کی الگ جانچ کا نتیجہ شامل نہیں۔ اسی طرح قیدیوں کی گنجائش پہلے مرحلے کے لیے بتائی گئی ہے اور مستقبل میں اس میں کسی توسیع سے متعلق مزید تفصیل جاری نہیں کی گئی۔

وفاقی حکومت کے لیے نئی جیل کا فعال ہونا اس لحاظ سے اہم ہے کہ اسلام آباد کی عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کے قیدیوں کو مخصوص مقامی سہولت میں رکھنے کا انتظام ممکن ہوگا۔ افتتاح اور قیدیوں کی باقاعدہ منتقلی کے بعد ہی اس کے مکمل آپریشنل استعمال کی عملی صورت واضح ہوگی۔