پشاور: خیبر پختونخوا کے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم نے صوبے بھر میں 4,049 سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کو خستہ حال قرار دیتے ہوئے ان کی فوری تعمیر نو یا بحالی کی ضرورت ظاہر کی ہے۔ محکمہ کے ابتدائی تخمینے کے مطابق طلبہ اور اساتذہ کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے ان عمارتوں پر تقریباً 16.2 ارب روپے خرچ ہوں گے۔
یہ سروے پشاور کے دیر کالونی علاقے میں ایک نجی اسکول کی عمارت گرنے کے بعد ضلعی اور تحصیل سطح کے تعلیمی ڈھانچے کے ذریعے کیا گیا۔ اس حادثے میں 31 طلبہ اور ایک خاتون استاد جان سے گئے تھے۔ سرکاری جائزے کے مطابق متاثرہ سرکاری اسکولوں میں مجموعی طور پر 8,088 کلاس روم، 2,949 گروپ لیٹرین اور 48 امتحانی ہال تعمیر نو یا مرمت کے محتاج ہیں۔
محکمہ تعلیم نے سرکاری اسکولوں کے ساتھ نجی تعلیمی اداروں کی عمارتوں کا جائزہ لینے کی ذمہ داری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن اتھارٹی کو بھی دی ہے۔ ایک محکمانہ اہلکار کے مطابق صوبے میں پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی کے ساتھ رجسٹرڈ 12,493 نجی اسکولوں میں سے 6,000 سے زیادہ کا معائنہ کیا جا چکا ہے اور باقی کام مکمل کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔
ضلعی اعداد و شمار کے مطابق ایبٹ آباد میں 245 سرکاری اسکولوں کی بحالی کے لیے تقریباً 1.098 ارب روپے درکار ہیں۔ بٹگرام میں 59 اسکول خستہ حال قرار دیے گئے، جبکہ بونیر میں 71 اسکولوں کو بحالی کی ضرورت ہے۔ چارسدہ میں 174 اسکولوں کے لیے تقریباً 874.7 ملین روپے اور لوئر دیر میں 271 اسکولوں کے لیے 1.48 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اپر دیر میں 161 اور ہنگو میں 116 اسکولوں کی عمارتیں بھی فہرست میں شامل ہیں۔
ہری پور میں 332، کرک میں 132، کوہاٹ میں 168، ملاکنڈ میں 162، مردان میں 350 اور سوات میں 488 سرکاری اسکولوں کو خستہ حال بتایا گیا ہے۔ پشاور میں 454، نوشہرہ میں 202، مانسہرہ میں 174 اور صوابی میں 160 اسکولوں کو بھی بحالی کی ضرورت ہے۔ محکمہ نے لوئر کوہستان، کولئی پالس، اپر و لوئر چترال، اپر کوہستان، شانگلہ اور تورغر کے اسکول بھی فہرست میں شامل کیے ہیں۔
یہ اعداد و شمار صوبے میں تعلیمی عمارتوں کی حفاظت کے مسئلے کی وسعت ظاہر کرتے ہیں۔ فی الحال یہ ابتدائی محکمانہ تخمینہ ہے؛ عملی تعمیر نو اور مرمت کے منصوبوں کے لیے فنڈز کی فراہمی، ترجیحی فہرست اور تکمیل کا شیڈول الگ انتظامی مراحل میں طے ہونا باقی ہے۔
