اسلام آباد: سینیٹ نے سفارتی پاسپورٹ کے استحقاق کو محدود کرنے کے لیے مجوزہ پاسپورٹس (ترمیمی) بل 2026 پیش کرنے کی تحریک مسترد کر دی ہے۔ نجی ارکان کا یہ بل سینیٹر فیصل سلیم رحمان، سمیعہ ممتاز زہری اور سیف اللہ ابڑو کی جانب سے پیش کیا جانا تھا اور اس میں بعض سرکاری عہدوں کی بنیاد پر سفارتی پاسپورٹ کے اجرا، تجدید یا دوبارہ اجرا پر پابندی تجویز کی گئی تھی۔

مجوزہ ترمیم کے تحت پاسپورٹس ایکٹ 1974 میں نئی دفعہ 12 اے شامل کرنے کی تجویز تھی۔ اس کے مطابق وزیر مملکت، وزیراعظم کے مشیر اور معاون خصوصی، سیکریٹری خارجہ کے علاوہ وفاقی سیکریٹریز اور ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر فائز افراد کو محض اپنے عہدے کی بنیاد پر سفارتی پاسپورٹ کا حق حاصل نہ رہتا۔ پہلے سے موجود ایسے پاسپورٹ قانون نافذ ہونے کے 30 روز کے اندر متعلقہ اتھارٹی کے حوالے کرنے کی تجویز بھی شامل تھی۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے حکومت کی جانب سے بل کی مخالفت کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ مجوزہ ترمیم کابینہ کے اختیار کو محدود کرے گی۔ دوسری جانب سینیٹر فیصل سلیم رحمان نے کہا کہ سفارتی پاسپورٹ کا استحقاق وزرا تک محدود ہونا چاہیے اور اس کے اجرا میں غیر ضروری توسیع نہیں ہونی چاہیے۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر ضمیر گھمرو نے بحث کے دوران وزیر مملکت کی پارلیمانی حیثیت کا حوالہ دیا۔

مجوزہ قانون میں یہ وضاحت بھی رکھی گئی تھی کہ متعلقہ افراد اگر کسی دوسرے قانونی عہدے، تقرری یا سفارتی ذمہ داری کی وجہ سے آزادانہ طور پر سفارتی پاسپورٹ کے اہل ہوں تو ان کا وہ استحقاق متاثر نہیں ہوگا۔ اسی طرح عام یا سرکاری پاسپورٹ رکھنے کے دیگر قانونی حقوق برقرار رہنے تھے۔ تاہم سینیٹ نے بل پیش کرنے کی تحریک ہی منظور نہیں کی، اس لیے یہ مجوزہ پابندیاں قانون نہیں بنیں۔

اسی اجلاس میں ایوان نے کنزیومرز پروٹیکشن (ترمیمی) بل 2026 حکومت کی مخالفت کے باوجود منظور کیا اور ضابطہ فوجداری 1898 میں ایک ترمیم کی بھی منظوری دی، جبکہ اسلام آباد میٹرو بس سروس بل 2026 مؤخر کر دیا گیا۔ وفاقی دارالحکومت میں پلاسٹک بک کورز پر پابندی سے متعلق قانون میں ترمیمی بل بھی متفقہ طور پر منظور کیا گیا، جس کا مقصد ایک ایسے استثنا کو ختم کرنا تھا جس کے غلط استعمال کی شکایات سامنے آئی تھیں۔

اجلاس میں خیبر پختونخوا کی بعض قومی اور صوبائی اسمبلی نشستوں کی حدود کی نئی وضاحت اور چیف الیکشن کمشنر کے جانشین کی تقرری میں تاخیر پر بھی سوال اٹھائے گئے۔ پی ٹی آئی کے پارلیمانی رہنما سینیٹر علی ظفر نے انتخابی حلقوں میں تبدیلی کے عمل میں قانونی طریقہ کار اور عوامی اعتراضات سننے کی ضرورت پر زور دیا۔

سینیٹ نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت میں ایک قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور کی۔ سفارتی پاسپورٹس سے متعلق اصل خبر کا قانونی نتیجہ یہ ہے کہ نجی بل پیش کرنے کی تحریک مسترد ہوگئی؛ لہٰذا موجودہ پاسپورٹ استحقاق میں اس تجویز کی بنیاد پر کوئی قانونی تبدیلی نافذ نہیں ہوئی۔