اسلام آباد پولیس سے حاصل اعداد و شمار کے مطابق رواں سال وفاقی دارالحکومت میں 61 مبینہ پولیس مقابلے رپورٹ ہوئے، جن میں پانچ مشتبہ افراد ہلاک اور 53 زخمی ہوئے، جبکہ ایک پولیس اہلکار بھی زخمی ہوا۔ یہ اعداد پولیس کے ریکارڈ پر مبنی ہیں اور ان واقعات کی نوعیت کے باعث انہیں پولیس کا بیان سمجھنا ضروری ہے؛ ہر مقابلے کے حالات کی آزادانہ عدالتی یا تحقیقاتی تصدیق رپورٹ میں موجود نہیں۔

ڈان کے مطابق سب سے زیادہ 22 واقعات صدر زون میں ہوئے، اس کے بعد انڈسٹریل ایریا زون میں 17، سواں زون میں نو، سٹی زون میں سات اور رورل زون میں چھ مبینہ مقابلے ریکارڈ کیے گئے۔ پانچ ہلاکتوں میں سے دو انڈسٹریل ایریا زون جبکہ ایک ایک سٹی، رورل اور سواں زون میں ہوئیں۔ زخمی مشتبہ افراد کی سب سے زیادہ تعداد صدر زون میں 18 اور انڈسٹریل ایریا میں 16 رہی۔

پولیس کے اعداد کے مطابق ان واقعات میں تقریباً 140 مشتبہ افراد شامل تھے، جن میں سے 114 فرار ہوئے اور 26 کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ متعدد واقعات اس وقت پیش آئے جب زیر حراست اور ہتھکڑی لگے ملزمان کو برآمدگی کے لیے مبینہ ٹھکانوں پر لے جایا جا رہا تھا یا وہاں سے واپس لایا جا رہا تھا۔ بعض واقعات گشت یا ناکوں پر مشتبہ افراد کو روکنے کی کوشش کے دوران بھی ہوئے۔

پولیس کا مؤقف ہے کہ ان مقابلوں میں زخمی یا ہلاک ہونے والے مشتبہ افراد اپنے ساتھیوں کی فائرنگ کا نشانہ بنے، جبکہ پولیس اہلکاروں نے عموماً اپنی حفاظت یا زیر حراست ملزم کو فرار سے روکنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی۔ چونکہ یہ تفصیل قانون نافذ کرنے والے ادارے کا دعویٰ ہے، اس لیے اسے کسی آزاد تحقیق کے حتمی نتیجے کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔

رپورٹ میں رواں ماہ شمس کالونی تھانے کی حدود میں ہونے والے ایک واقعے کے حوالے سے ایف آئی آر اور پولیس کے شعبہ تعلقات عامہ کے بیان میں فرق کی نشاندہی بھی کی گئی۔ ایک بیان میں پولیس ٹیم کے برآمدگی کے بعد واپس آنے اور دوسرے میں برآمدگی کے لیے جانے کا ذکر تھا۔ اسی طرح حملہ آوروں کی موجودگی کی تفصیل میں بھی مختلف الفاظ استعمال ہوئے۔ متعلقہ اعلیٰ پولیس حکام سے تبصرے کی کوشش کی گئی مگر رپورٹ کے مطابق جواب نہیں ملا۔

مبینہ پولیس مقابلوں میں ہلاکت یا زخمی ہونے کے واقعات قانونی احتساب، زیر حراست افراد کی حفاظت اور پولیس کارروائی کی شفافیت سے متعلق اہم سوالات اٹھاتے ہیں۔ دستیاب اعداد واقعات کی تعداد اور پولیس کا مؤقف فراہم کرتے ہیں، مگر کسی مخصوص واقعے میں مجرمانہ ذمہ داری یا پولیس کارروائی کی قانونی حیثیت کا فیصلہ متعلقہ تحقیقات، عدالتی کارروائی یا آزادانہ انکوائری کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔