اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کی پولیس نے اپنے افسران، اہلکاروں اور دیگر ملازمین کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال اور عوامی سطح پر معلومات جاری کرنے کے حوالے سے نئی پالیسی نافذ کر دی ہے۔ پولیس سربراہ کے دفتر سے جاری پالیسی پر ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس ہیڈکوارٹر کے دستخط ہیں۔ اس میں تمام رینکس کے ملازمین کو سرکاری حیثیت میں اظہارِ خیال، معلومات کی اشاعت اور مخصوص آن لائن سرگرمیوں سے متعلق ہدایات دی گئی ہیں۔
آٹھ اکتوبر کو ڈان میں شائع تفصیلات کے مطابق پولیس اہلکار کسی عوامی فورم پر اپنی سرکاری حیثیت میں بیان دینے، اخبارات میں تحریر شائع کرنے یا سوشل میڈیا پر سرکاری مؤقف پیش کرنے سے پہلے اجازت حاصل کرنے کے پابند ہوں گے۔ پالیسی میں سرکاری اور خفیہ نوعیت کی دستاویزات، تصاویر یا ان کے مندرجات کو سوشل میڈیا یا دیگر ذرائع ابلاغ پر اپ لوڈ کرنے، آگے بڑھانے اور پھیلانے سے بھی روکا گیا ہے۔
نئی ہدایات میں خاص طور پر پولیس کی وردی پہن کر ذاتی تشہیر کی غرض سے ویڈیوز بنانے یا تصاویر کھینچنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس پابندی کا دائرہ سرکاری عمارتوں، گاڑیوں اور ذاتی مقامات تک بتایا گیا ہے۔ پالیسی کے مطابق اہلکار میڈیا پلیٹ فارمز پر اپنے ذاتی سیاسی یا مذہبی خیالات کے اظہار سے بھی گریز کریں گے۔ تاہم خبر میں تمام شہریوں کے لیے سوشل میڈیا کے عمومی استعمال پر کوئی نئی پابندی بیان نہیں کی گئی؛ یہ مخصوص طور پر اسلام آباد پولیس کے عملے کی محکمانہ پالیسی ہے۔
پولیس سرگرمیوں سے متعلق باضابطہ معلومات جاری کرنے کی ذمہ داری مرکزی پولیس دفتر کی تعلقاتِ عامہ شاخ کو دی گئی ہے۔ ہر ڈویژن، زون اور یونٹ کے سربراہ کو اپنے ماتحت عملے کی سرگرمیوں کی نگرانی کا بھی ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ محکمہ غیر مجاز سرکاری بیانات اور ادارہ جاتی مواد کی غیر رسمی اشاعت کو روکنے کے لیے مرکزی ابلاغی نظام اختیار کرنا چاہتا ہے۔
پالیسی کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ قواعد کے تحت سخت محکمانہ کارروائی کی تنبیہ کی گئی ہے۔ ہدایات فوری طور پر مؤثر ہیں اور اگلے حکم تک نافذ رہیں گی۔ رپورٹ میں کسی خاص افسر کے خلاف ان پابندیوں کے تحت کارروائی کی تصدیق نہیں کی گئی۔ اس لیے خبر کا مصدقہ پہلو نئی پالیسی کے اجرا اور اس کی شرائط ہیں، نہ کہ کسی انفرادی اہلکار کی سزا یا قانونی نتیجہ۔
